وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سانحہ گُل پلازہ کے متاثرین کو دو ماہ میں متبادل دکانیں اور ایک کروڑ روپے بلا سود قرض فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کراچی میں پیر کے روز میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سانحہ گُل پلازہ کے شہدا کے لواحقین کےغم میں شریک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے دیے جائیں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ سندھ حکومت دو ماہ میں تاجروں کو متبادل دکانیں فراہم کرے گی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ گُل پلازہ کے تمام دکانداروں کو گھر کا خرچ چلانے کے لیے پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر کراچی چیمبر کے ساتھ مشاورت شروع کردی ہے، تاجروں کے ہونے والے تمام نقصانات کا ازالہ کریں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں ہے۔ گُل پلازہ میں جتنی دکانیں تھی، ہم اتنی ہی دکانیں تعمیر کر کے دیں گے اور ہر دکاندار کو ایک کروڑ روپے بلاسود قرض بھی دیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ریسکیو سروس کے شعبے مختلف اداروں کے پاس ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اس معاملے پر قانون سازی جاری ہے اور ضرورت پڑی تو ایک نیا ادارہ بنائیں جو تمام سہولیات سے آراستہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات جاری ہیں، کسی کے پاس ثبوت ہیں تو انکوائری کمیٹی کو فراہم کریں۔ اس واقعے میں جو بھی قصوروار ہوا اُسے سزا ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے میں اگر وہ خود بھی قصوروار ٹھہرے تو انہیں بھی سزا ملنی چاہئے۔
کراچی میں کورنگی کازوے پُل کے افتتاح کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ہرچیزکو اٹھارویں ترمیم پرڈالا جارہا ہے۔ ایک وفاقی وزیرنے اسمبلی میں بات کی تو دوسرے وزیر نے اسے ان کی ذاتی رائے قرار دے دیا۔
انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہ ہو کہ کراچی میں سردی کا الزام پر اٹھارویں ترمیم پر لگا دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا انفرااسٹرکچربہترکرنے کی کوشش کررہے ہیں، عید تک شاہراہِ بھٹو کو عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔