پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں پیر کی شب صادق آباد سے کوئٹہ جانے والی بس کے اغوا کا واقعہ پیش آیا، جس میں ڈاکوؤں نے اوباڑو کے قریب بس روک کر 19 افراد کو اغوا کر لیا۔ واقعے کے فوری بعد پولیس اور رینجرز نے مسافروں کو بازیاب کرانے کے لیے کارروائی شروع کی اور اب تک 10 افراد کو محفوظ بازیاب کروا لیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی سکھر فیصل عبداللہ چاچڑ نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رات بھر جاری آپریشن کے دوران کچے کی طرف جانے والے تمام راستے بند کر دیے، جس کے باعث ڈاکو مغویوں کو کچے کی طرف لے جانے میں ناکام رہے۔
پولیس اور رینجرز نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 10 مغوی مسافروں کو بحفاظت بازیاب کروا کر محفوظ مقام پر پہنچایا۔
ڈی آئی جی کے بیان کے مطابق علاقے میں ناکہ بندی اور ڈاکوؤں کے تعاقب کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کارروائی میں ایس ایس پی خیرپور، ایس ایس پی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی سمیت سکھر رینج کے اہلکار شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ مقابلے کے دوران چند ڈاکو زخمی بھی ہوئے ہیں۔
علاقائی پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا کے دیگر افراد کو بازیاب کرانے کے لیے آپریشن جاری ہے اور ڈاکوؤں کو گرفتار کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ضلع میں امن و امان کی صورتحال بحال ہو سکے۔