امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی نیوکلیر صلاحیت روکنے کے لیے جنگ کو مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی عوام کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہتھیار فراہم کیے گئے تاکہ وہ آزادی کے لیے لڑ سکیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ جو امریکی شہری جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں وہ بے وقوف ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہیں تو جنگ سے ابھی نکل سکتے ہیں، لیکن میں اس جنگ کو انجام تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران کے پاس نیوکلیر ہتھیار نہ ہوں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ آپ چاہیں اسے کچھ بھی کہیں میں اسے حکومتی تبدیلی کہتا ہوں۔ پہلی اور دوسری رجیم ختم کر دی گئی، تیسری سے بات ہو رہی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ شدت پسند نہیں بلکہ زیادہ اسمارٹ ہیں۔ اگر ہم ایران کا نیوکلیر تباہ نہ کرتے تو اسرائیل ختم ہو چکا ہوتا اور پورا مشرق وسطی پریشانی کا شکار ہو جاتا۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر وہ نہیں مانیں گے تو کوئی پل یا پاور پلانٹ نہیں بچے گا۔ میری چوائس پوچھیں تو میں ایران کا تیل حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے ایرانی عوام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام آزادی حاصل کرنا چاہتی ہے، لیکن انہیں کہا جاتا ہے کہ احتجاج کرو گے تو گولی مار دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایرانی عوام کے لیے بندوقیں بھیجی تھیں، لیکن جن لوگوں کے ذریعے ہم نے گنز بھجوائیں، انہوں نے خود رکھ لیے۔ میں ان لوگوں سے ناراض ہوں اور انہیں اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ جیسے ہی ایرانی عوام کے پاس ہتھیار پہنچیں گے، وہ لڑیں گے۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا کے پاس اطلاعات ہیں کہ 45 ہزار احتجاج کرنے والوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس کچھ میزائل اور ڈرونز بچے ہیں اور ایک لکی شاٹ سے ہمارا جہاز گر گیا۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز کھولنے کی منگل کی ڈیڈ لائن حتمی ہے۔ انہوں نے امریکی تجویز پر ایران کے ردعمل کو اہم قرار دیا، مگر کہا کہ یہ کافی نہیں ہے۔ انہیں ایران میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے سے متعلق خدشات کی کوئی فکر نہیں ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران جنگ بندی کرنا چاہے گا کیونکہ ان کا خاتمہ ہو رہا ہے، تنازع ختم کرنے کے لیے ایران کو کئی مواقع دیے جو انہوں نے ٹھکرادیے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت میں اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کُشنر اور جے ڈی وینس شامل ہیں، ہم نے رجیم کی تبدیلی کر لی ہے اور اب وہاں اعتدال پسند لوگ ہیں۔
ٹرمپ سے ان کے گزشتہ روز کے بیان میں نامناسب الفاظ کے استعمال پر سوال بھی کیا گیا جس کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے اپنا نکتہ نظر واضح کرنے کے لیے ایسا کیا، میرا خیال ہے آپ نے پہلے بھی ایسا سنا ہوگا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ جو امریکی شہری جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں وہ بےوقوف ہیں۔