مذاکرات میں ناکامی کے بعد پاک افغان سرحد پر شدید جھڑپ، باب دوستی تباہ – Pakistan



مذاکرات میں ناکامی کے بعد افغانستان کی طالبان فورسز اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے درمیان چمن اور سپین بولدک سرحد پر ایک بار پھر فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر جھڑپ شروع کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے۔

افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعے کو ہوئے فائرنگ کے تبادلے پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ پاکستانی فورسز نے قندھار کے ضلع سپین بولدک میں فائرنگ کا آغاز کیا، جس کے جواب میں امارتِ اسلامیہ کی فورسز کو کارروائی کرنا پڑی۔

ان کے نائب حماد اللہ فطرت نے برطانوی خبر رساں ادارے (رائٹرز) کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی گولہ باری میں پانچ افغان باشندے ہلاک ہوئے، جن میں طالبان کا ایک رکن بھی شامل ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ طالبان فورسز نے بغیر کسی وجہ کے شروع کی۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے سماجی رابطے کی سائٹ ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ افغان طالبان نے چمن بارڈر پر بلااشتعال فائرنگ کی جس کا پاک فوج نے فوری اور مؤثر جواب دیا۔

مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار اور چوکس ہے۔

تصادم کے درمیان سامنے آنے والے مناظر میں مقامی لوگوں کو جھڑپ کے مقام سے بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

جبکہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان چمن کی سرحدی گزرگاہ ‘بابِ دوستی’ کی تباہی کے مناظر بھی سامنے آئے۔

یہ تازہ جھڑپ چند روز قبل سعودی عرب میں پاکستان اور طالبان حکومت کے نمائندوں کے درمیان اہم اور خفیہ ملاقات کے بعد ہوئی ہے۔ مذکورہ ملاقات میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کا اظہار کیا گیا تھا۔ تاہم اس ملاقات میں کسی بڑی پیش رفت کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

جمعے کی رات ہونے والے تازہ تصادم میں کسی بھی فریق نے ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی۔

اس سے قبل استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے دو دور بھی بے نتیجہ ختم ہوئے تھے، اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کو ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اکتوبر میں ہونے والی جھڑپوں میں بھی درجنوں افراد مارے گئے تھے، ان جھڑپوں کو طالبان کے 2021 میں افغانستان پر قبضے کے بعد کی سب سے شدید سرحدی کشیدگی قرار دیا گیا تھا۔

گزشتہ پچاس سے زائد دنوں سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان لوگوں کی آمد و رفت معطل ہے۔ تجارتی راستے بھی تقریباً بند پڑے ہیں، جس کے باعث دونوں ممالک کو بھاری مالی نقصان ہو رہا ہے۔

پاکستان کی جانب سے صرف افغان شہریوں کو واپسی کی اجازت دی جا رہی ہے جبکہ باقی سرگرمیاں رکی ہوئی ہیں۔



Source link

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *