پی آئی اے کی فروخت؛ عارف حبیب کنسورشیم کو کیا کچھ ملے گا؟ – Pakistan



وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ قومی ایئرلائن کے کون سے اثاثے بیچے گئے اور حکومت کو کتنی رقم ملے گی۔

پی آئی اے کی نیلامی کے بعد سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال پاکستان اور بیرون ملک موجود پی آئی اے کے سیکڑوں ارب روپے کے اثاثوں سے متعلق ہے۔

پی آئی اے پاکستان سمیت بیرونِ ملک بھی مختلف جائیدادوں اور اہم اثاثہ جات کی مالک ہے۔ جس میں جہازوں کا بیڑہ، فائیو اسٹار ہوٹلز، تقریباً 97 انٹرنیشنل روٹس، دنیا کے بڑے ایئرپورٹس پر لینڈنگ اور ٹیک آف کے حقوق، مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری، ملک بھر میں دفاتر، جائیدادیں اور دیگر اثاثے بھی شامل ہیں۔

یہ تمام اثاثے پہلے قومی ایئرلائن کی ملکیت تھے تاہم ماضی میں پی آئی اے کی نیلامی کے لیے انتہائی کم بولیاں وصول ہونے کے بعد مئی 2024 میں حکومت نے پی آئی اے کو دو حصوں، پی آئی اے کارپوریشن لمیٹڈ اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ میں تقسیم کردیا تھا۔

اسلام آباد میں منگل کے روز ہونے والی ایک تقریب میں پاکستان کے معروف سرمایہ کاروں پر مشتمل عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز 135 ارب روپے میں خریدے۔ اس دوڑ میں لکی سیمنٹ کنسورشیم اور ایئر بلیو کنسورشیم بھی شامل تھے۔

البتہ نجکاری کے بعد پی آئی اے کا نام اور لوگو تبدیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم سرمایہ کاروں کو انتظامی اور مالی اصلاحات کی اجازت ہوگی۔

پی آئی اے کی فروخت کے بعد یہ سوال زور پکڑ گیا ہے کہ اس نیلامی میں کون کون سے اثاثے خریداروں کے حصے میں آئیں گے۔ البتہ وزیراعظم شہبازشریف کے مشیرِ نجکاری محمد علی نے بدھ کو پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ نیلامی میں پی آئی اے کی جائیدادیں شامل نہیں ہیں۔

نیلامی میں صرف پی آئی اے کے وہ اثاثے (روٹس اور جہاز) فروخت کیے گیے ہیں جو ایئرلائن چلانے کے لیے ضروری ہیں جبکہ رئیل اسٹیٹ، ہوٹلز، سرمایہ کاری اور قرضے حکومت کی زیرِ ملکیت کمپنی کے پاس رہیں گے۔

عارف حبیب گروپ کے سربراہ عارف حبیب نے آج نیوز کے پروگرام ”نیوز اِن سائٹ وِد عامر ضیا“ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے صرف وہی اثاثے منتقل ہوں گے جو بنیادی کاروبار سے متعلق ہیں۔ تاہم پی آئی اے کی زیرِ ملکیت امریکا کے شہر نیو یارک میں موجود روز ویلٹ ہوٹل اور دیگر جائیدادیں معاہدے کا حصہ نہیں ہیں۔

پی آئی اے کے اثاثوں کو سمجھنے کے لیے پہلے ادارے کی دو کمپنیوں سے متعلق جاننا ضروری ہے۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *