وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس پر امریکی فضائی حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اہم بیان سامنے آگیا ہے جس میں انہوں نے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کی گرفتاری کی تصدیق کردی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ٹروتھ سوشل پر لکھا ہے کہ امریکا نے وینزویلا کے خلاف کامیاب کارروائی کی ہے، اور صدر نکولس مادورو کو اہلیہ سمیت گرفتار کر کے ملک سے باہر لے جایا گیا ہے۔
امریکا نے وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں فضائی حملے کیے ہیں جس کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ وینزویلا نے کہا ہے کہ وہ امریکا کی جانب سے کی جانے والی ”فوجی جارحیت“ کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی آفیشل نے اعتراف کیا ہے کہ امریکا نے وینزویلا میں حملے کیے ہیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔
تُرک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ امریکا کی جانب سے دارالحکومت کاراکاس پر کی جانے والی مبینہ فوجی جارحیت کے باعث ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق شہر کے مختلف حصوں میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جن کے ساتھ طیاروں کی پرواز جیسی آوازیں بھی سنائی دیں۔
وینزویلا کی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ امریکی حکومت کی وینزویلا کی سرزمین اور عوام کے خلاف کی جانے والی اس انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو مسترد، مذمت اور عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کرتی ہے۔
بی بی سی کے مطابق وینیزویلا نے امریکی حملوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی کارروائیاں دراصل وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش ہیں۔
صدر مادورو نے ملکی افواج کو فوری طور پر متحرک ہونے کی ہدایت دیتے ہوئے اس کارروائی کو وینزویلا کے خلاف مہلک حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی خودمختاری اور عوامی نظم و ضبط کے تحفظ کے لیے شہریوں اور فوج کو مشترکہ طور پر تعینات کیا گیا ہے، جسے عوام، فوج اور پولیس کی یکجہتی کی علامت قرار دیا گیا۔
وینزویلا حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق حملے ریاست میرینڈا، اراگوا اور لا گوئیرا میں بھی کیے گئے۔ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر صدر نکولس مادورو نے ملک میں قومی ایمرجنسی نافذ کرنے اور دفاعی افواج کو متحرک کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
کاراکاس میں جمعہ کی رات دو بجے دھماکوں اور طیاروں کی نچلی پروازوں کی آوازیں سنائی دی گئیں۔ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گردش کرتی ویڈیوز میں امریکی ’چینوک‘ ہیلی کاپٹرز کو شہر کے اوپر پرواز کرتے دیکھا گیا۔
یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیریبین میں نیوی کی ٹاسک فورس تعینات کرتے ہوئے ینزویلا کے خلاف زمینی حملوں کے امکان کو ظاہر کیا تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق کاراکاس میں تقریباً رات 2 بجے کم از کم 7 دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، دھماکوں اور پروازوں کی آوازیں پندرہ منٹ تک جاری رہیں۔
رپورٹ کے مطابق ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دھماکوں کے پیچھے کیا وجہ تھی۔ وینزویلا کی حکومت، پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے ان دھماکوں پر کوئی تبصرہ یا بیان سامنے نہیں آیا۔
دھماکوں کی آواز سن کر مختلف علاقوں میں شہری خوفزدہ ہو کر سڑکوں کی طرف دوڑتے دیکھے گئے۔
اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ دھماکے کاراکاس کے جنوبی علاقے میں فوجی اڈے کے قریب ہوئے، دھماکوں کے بعد بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی اور آدھا شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وینزویلا کی جانب سے متعدد امریکی شہریوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ غیر ملکی میڈیا نے تصدیق کی تھی کہ وینزویلا نے کم از کم پانچ امریکی شہریوں کو تحویل میں لے لیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ حراست میں لیے گئے افراد کی شناخت اور حالات سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ گرفتار امریکی شہریوں کی مکمل چھان بین کے ساتھ اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ انہیں کن الزامات کے تحت اور کن حالات میں حراست میں لیا گیا۔
اس کے علاوہ امریکی حکام نے الزام عائد کیا تھا کہ وینزویلا، امریکا کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے امریکی شہریوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔
علاوہ ازیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نجی طور پر صدر نکولس مادورو پر دباؤ ڈالا تھا کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔ پیر کے روز ٹرمپ نے کہا تھا کہ مادورو کے لیے اقتدار چھوڑ دینا دانش مندی ہوگی۔