وینزویلا پر حملہ فیصلہ کن تھا، عبوری دور میں امریکا انتظام سنبھالے گا: صدر ٹرمپ – World



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر حالیہ فوجی کارروائی کے بعد ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کی فوج اگرچہ تیار تھی، تاہم امریکی کارروائی اتنی تیز اور مؤثر تھی کہ انہیں سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران کسی بھی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا اور امریکا کے پاس دنیا کا بہترین فوجی سازوسامان موجود ہے۔ ان کے مطابق پہلا حملہ ہی اتنا مؤثر تھا کہ دوسرے حملے کی ضرورت پیش نہیں آئی، تاہم اگر حالات بدلتے تو امریکا مزید کارروائی کے لیے بھی تیار تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جب تک وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی نہیں ہو جاتی، امریکا وہاں انتظامی امور سنبھالے رکھے گا۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی تیل کمپنیاں بھی وینزویلا بھیجی جائیں گی اور وہاں موجود امریکی شہریوں کو واپس ان کے گھروں کو بھیجا جائے گا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آئندہ ایسے حالات دوبارہ پیدا نہ ہوں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دنیا میں ہر شخص وینزویلا اور امریکا کے درمیان شراکت داری دیکھنا چاہتا ہے اور امریکا وینزویلا کو ایک خوشحال اور ترقی کرتا ہوا ملک بنانا چاہتا ہے۔

پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ مادورو ایک ایسے کارٹل کی قیادت کر رہے تھے جو امریکا کو منشیات فراہم کرتا تھا۔ ان کے مطابق مادورو اور ان کی اہلیہ اس وقت نیویارک میں موجود ہیں اور اب وہ کسی بھی امریکی کے لیے خطرہ نہیں رہیں گے۔

ٹرمپ نے مزید الزام لگایا کہ مادورو ایک خون آشام گینگ کے بھی سربراہ تھے اور وینزویلا کی سیکیورٹی فورسز پر سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے نام نہاد پولیس اہلکار عوام پر تشدد کرتے تھے۔

امریکی صدر نے داخلی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل گارڈز نے واشنگٹن کو محفوظ شہر بنا دیا ہے اور اب وہاں جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں۔

انھوں نے وینزویلا کے تمام سیاسی اور ملٹری رہنماؤں کو بھی دھمکی دی، کہا کہ جو بھی مادورو کے ساتھ ہوا وہ ان کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے، اگرانہوں نے اپنے لوگوں سے انصاف نہیں کیا تو ان کے ساتھ بھی یہی ہوگا، ٹرمپ نے مزید کہا کہ مادورو اب جا چکا ہے، وینزویلا اب ایک محفوظ ملک ہے، امریکا کی وینزویلا کے تیل پر لگائی پابندیاں جاری رہیں گی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *