بنگلہ دیش نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے لیے بھارت جانے سے انکار کردیا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے آئی سی سی سے میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے جب کہ فیصلہ مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل تنازع کے بعد سامنے آیا ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ قومی ٹیم 2026 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے لئے بھارت کا سفر نہیں کرے گی۔ بی سی بی کے مطابق کھلاڑیوں کی سیکیورٹی سے متعلق سنگین خدشات کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
آئی سی سی کو بھیجے گئے ایک ای میل میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں ٹیم کو بھارت بھیجنا ممکن نہیں۔ اتوار کے روز بی سی بی کے 17 ڈائریکٹرز کے اجلاس میں متفقہ طور پر طے پایا کہ بنگلہ دیش اپنے تمام ورلڈ کپ میچز بھارتی سرزمین سے باہر کھیلے گا۔
ٹی 20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کا پہلا میچ 7 فروری کو ویسٹ انڈیز، دوسرا میچ 9 فروری کو اٹلی، تیسرا میچ 14 فروری کو انگلینڈ اور چوتھا میچ 17 فروری کو نیپال کے خلاف شیڈول ہیں۔ ابتدائی تین میچز کولکتہ جبکہ چوتھا میچ ممبئی میں کھیلا جانا ہے۔
یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل 2026 سے قبل اسکواڈ سے ریلیز کر دیا۔ یہ فیصلہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی درخواست پر کیا گیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے کرکٹ تعلقات میں تناؤ دیکھنے میں آیا۔
مستفیض الرحمان کو دسمبر 2025 میں آئی پی ایل منی آکشن کے دوران 9 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خریدا گیا تھا تاہم بعد میں سیاسی اور سیکیورٹی خدشات کے باعث انہیں ٹیم سے نکال دیا گیا۔
بنگلہ دیش میں حالیہ پرتشدد واقعات اور بھارت میں اقلیتوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بھی اس فیصلے کی بڑی وجہ بنے۔
بنگلہ دیش کی وزارتِ کھیل نے بی سی بی کو ہدایت دی تھی کہ آئی سی سی سے باضابطہ طور پر میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی جائے تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ آئی سی سی اس مطالبے پر کیا فیصلہ کرتی ہے، تاہم یہ پیش رفت 2026 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے انتظامات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔