دبئی میں جان لیوا چیلنجز پر پولیس کی وارننگ جاری – Trending



آج کے دور میں سوشل میڈیا نوجوانوں کے روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے، جہاں ہر لمحے نئے رجحانات اور چیلنجز وائرل ہوتے رہتے ہیں۔ تفریح، ہم جماعتوں کی توجہ یا آن لائن شہرت کے حصول کے لیے بچے اور نوعمر اکثر ان چیلنجز میں حصہ لیتے ہیں، مگر بعض اوقات یہ رجحانات خطرناک اور جان لیوا بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

گلف نیوز کے مطابق دبئی ہیلتھ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) اور نالج اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ایچ ڈی اے) نے والدین کو انتباہ جاری کیا ہے کہ اسکولوں میں سوشل میڈیا کے وائرل خطرناک چیلنجز جیسے ”چوکنگ“، سانس روکنا، گردن یا سر پر دباؤ اور ”اسکَل بریکر چیلنج“ بچوں کی جان لے سکتے ہیں۔

اسکولوں نے ایسے واقعات کی اطلاعات دی ہیں کہ طلبہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ”اسکَل بریکر چیلنج“ میں تین بچے کھڑے ہوتے ہیں، درمیان والا بچہ اچھلتا ہے اور دونوں طرف موجود دائیں اور بائیں کھڑے بچے اس کی ٹانگوں پر مار کر اسے زمین پر گرا دیتے ہیں، جس سے سر یا کمر کو شدید چوٹ لگ سکتی ہے۔ یہ چیلنج 2020 میں بھی وائرل ہو چکا تھا اور اس وقت دبئی پولیس نے والدین کو خبردار کیا تھا۔

دبئی ہیلتھ اتھارٹی کے مطابق یہ سرگرمیاں دماغ کو فوری طور پر آکسیجن کی کمی کا باعث بن سکتی ہیں، جس سے برین ڈیمیج، فِٹس، دل کی دھڑکن رکنا یا کارڈیک ایریسٹ ہوسکتا ہے۔ گردن پر دباؤ ہوائی نالی اور خون کی نالیوں کو متاثر کرتا ہے اور دنیا کے کئی ممالک میں 7 سے 17 سال کے بچوں کی اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔

والدین کو چاہیے کہ جسمانی علامات جیسے گردن پر نشان، سر درد، چکر آنا، سرخ آنکھیں یا سست روی، اور رویے کی تبدیلیاں جیسے آن لائن سرگرمیوں کو چھپانا یا خطرناک چیلنجز کا ذکر کرنے پر فوری توجہ دیں۔ ایسے علامات دکھانے والے بچوں کے لیے سکول یا طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔

پولیس نے والدین سے اپیل کی ہے کہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھیں، نقصان دہ مواد کے خطرات پر بات کریں، اور ہم جماعت دباؤ اور مقبولیت کے لالچ سے بچوں کو بچائیں۔ خطرناک سرگرمیوں کی رپورٹ کے لیے دبئی پولیس کانٹیکٹ سینٹر 901 یا ایپ کے ”پولیس آئی“ فیچر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

نالج اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ایچ ڈی اے) نے والدین سے کہا ہے کہ وہ بچوں کو ان خطرات سے آگاہ کریں، سوشل میڈیا کی نگرانی بڑھائیں، اور اسکولوں میں ایسی سرگرمیوں پر ڈسپلنری کارروائی یقینی بنائیں۔ سنگین کیسز میں متعلقہ حکام کو ریفر کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر، سینٹ میری کیتھولک ہائی سکول نے ”نو ٹچ“ پالیسی نافذ کی ہے جس میں کوئی بھی جسمانی رابطہ، مذاق یا کھیل کے دوران کوئی ایسا عمل مکمل طور پر ممنوع ہے تاکہ بچوں کی حفاظت کی جا سکے۔



Source link

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *