عرب خلیجی ممالک نے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران خاموش مگر مؤثر سفارت کاری کے ذریعے ممکنہ امریکی فوجی حملے کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خلیجی ریاستیں اس خدشے میں مبتلا تھیں کہ ایران پر امریکی حملہ یا ایرانی نظام کا انہدام پورے خطے کو شدید عدم استحکام سے دوچار کر دے گا۔
الجزیرہ کے مطابق ایران میں مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے خلاف بار بار فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے بعد سعودی عرب، قطر اور عمان فوری طور پر متحرک ہو گئے۔
سعودی عرب نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے گریز کرے، جب کہ قطر اور عمان نے ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان سفارتی رابطے بحال کرانے پر توجہ مرکوز کی۔
بدھ کے روز ایسے اشارے سامنے آنے کے بعد کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے منقطع ہو چکے ہیں، خلیجی ممالک نے ہنگامی سفارتی کوششیں تیز کر دیں کیونکہ خدشہ تھا کہ کسی بھی وقت حملہ ہو سکتا ہے۔
خلیجی ممالک کو شدید خدشہ ہے کہ ایران پر امریکی حملہ نہ صرف تیل کی عالمی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا کرے گا بلکہ خلیجی ریاستوں کو سرمایہ کاری اور تجارت کے محفوظ مراکز کے طور پر قائم کردہ ساکھ کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا خطرہ بھی لاحق ہے۔
ماضی کے تجربات اس خوف کو تقویت دیتے ہیں۔ 2019 میں یمن میں ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا، جس سے سعودی تیل کی پیداوار عارضی طور پر متاثر ہوئی۔ گزشتہ برس ایران نے امریکی حملے کے جواب میں قطر میں واقع العدید ایئر بیس کو نشانہ بنایا، جو امریکی فوج کا اہم اڈہ ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک ایران میں اچانک نظام کی تبدیلی یا انہدام سے خاص طور پر خوف زدہ ہیں۔ عراق پر 2003 میں امریکی حملے کے بعد پیدا ہونے والا انتشار آج بھی خلیجی دارالحکومتوں کے ذہنوں میں تازہ ہے، جہاں خانہ جنگی، شدت پسند تنظیموں کے عروج اور طویل المدتی عدم استحکام نے پورے خطے کو متاثر کیا۔
قطر، کویت اور عمان نے ایران کے ساتھ بقائے باہمی کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے، جب کہ متحدہ عرب امارات خصوصاً دبئی ایران کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات رکھتا ہے۔ سعودی عرب اور ایران، اگرچہ تاریخی حریف رہے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے کشیدگی کم رکھنے اور رابطے بحال رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔
سعودی عرب بالخصوص خطے میں عدم استحکام سے گریز کا خواہاں ہے کیونکہ مملکت اپنی معیشت کو تیل پر انحصار سے نکالنے اور سیاحت کے فروغ کے لیے بڑے اقتصادی منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جن کے لیے علاقائی استحکام ناگزیر ہے۔
سعودی وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر کا کہنا ہے کہ ”ہمارا مقصد خطے میں استحکام اور سکون قائم رکھنا ہے تاکہ ہم اپنے عوام کے بہتر مستقبل پر توجہ دے سکیں۔“
ماہرین کے مطابق اگرچہ بعض خلیجی ممالک ایران میں بتدریج سیاسی اور پالیسی سطح پر تبدیلی کے خواہاں ہو سکتے ہیں، جیسے قیادت کے رویّے میں نرمی، علاقائی کشیدگی میں کمی اور جوہری و میزائل پالیسی پر نظرِ ثانی، تاہم وہ اچانک فوجی مداخلت یا زبردستی نظام کی تبدیلی کو پورے خطے کے لیے انتہائی خطرناک سمجھتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کی بروقت سفارتی مداخلت نے فی الحال امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ کو ٹال دیا ہے، تاہم خطے کی صورت حال بدستور نازک ہے۔