دبئی میں نوجوان ایک سے زیادہ نوکریاں کیوں کر رہے ہیں؟ – Life & Style



دبئی کے ہیومن ریسورس (ایچ آر) ماہرین کے مطابق، نوجوان ملازمت پیشہ افراد میں ”سائیڈ ہسلز“ یعنی ضمنی یا اضافی کاموں کا رجحان اتنا بڑھ گیا ہے کہ یہ اب بنیادی ملازمتوں پر بھی اثر ڈالنے لگا ہے۔

خلیج ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً ہر جنریشن زی سے تعلق رکھنے والا ہر 10 میں سے چھٹا نوجوان اضافی کام کر رہا ہے۔ یہ رجحان محض مالی فوائد کی وجہ سے نہیں بلکہ آذادانہ ماحول اور بہتر مستقبل کی خواہش کے لیے ہے۔

2024 میں کیے گئے ایک گلاس ڈور ہیرس پول کے مطابق، 39 فیصد ملازمین اضافی آمدنی کے لیے اپنی نوکری کے ساتھ ساتھ دیگر کام بھی کرتے ہیں، جب کہ یہ شرح جنریشن زی میں 57 فیصد اور ملینئیلز میں 48 فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔

دبئی میں ملازمتوں کے محدود ہوتے مواقع، مہنگائی اور کام کے بدلتے ہوئے رجحان نوجوانوں کو دوسری ملازمت کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

میگنیٹیوڈ کریئیٹو میں ہیڈ آف ایچ آر اور ایڈمن جیسی جوئے کے مطابق، ”ہماری ایجنسی میں سائیڈ ہسلز کا رجحان بڑھ رہا ہے، خاص طور پر ریموٹ اور ہائبرڈ ورک کلچر کی وجہ سے۔ آج کل ملازمین اپنی ایک ملازمت کو استحکام کا واحد ذریعہ نہیں سمجھتے۔ یہ مہنگائی، رہائش، تعلیمی اخراجات یا خاندانی ذمہ داریوں کے پیش نظر ایک سمجھدار فیصلہ ہے۔“

انہوں نے جنریشن زی کے حوالے سے بتایا کہ نوجوان اکثر اسکول کے دوران پارٹ ٹائم کام شروع کر دیتے ہیں، اور یہ عادت مکمل مستقل ملازمت کے بعد بھی جاری رہتی ہے، تاکہ اضافی آمدنی اور تحفظ حاصل کیا جا سکے۔

جیسی جوئے کے مطابق، “جب ملازم ایک سے زیادہ پروجیکٹس پر بیک وقت کام کرتے ہیں اور مناسب آرام نہیں کرتے تو ذہنی اور جسمانی تھکن بڑھ جاتی ہے۔ جس کے باعث دیر سے آنا، جلدی جانا، غیر شیڈول چھٹیاں یا نیند کی کمی کی وجہ سے توجہ کا کم ہونا جیسی عادات پیدا ہوجاتی ہیں۔

Source link

Spread the love

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *