اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے جس کے تحت شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ بنیادی شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف وجوہات کی بنا پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جون میں مہنگائی 7 فیصد سے اوپر جانے کا امکان ہے، کیش ریزرو ریکوائرمنٹ 6 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کردی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آرہی ہے، افراط زر کی شرح 5 سے 7 فیصد رہے گی، آئندہ مالی سال بھی افراط زر 5 سے 7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ درآمدات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ برامدات میں رواں سال 6 فیصد کم ہونے کا خدشہ ہے۔
جمیل احمد کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صفر سے 1 فیصد تک رہے گا، معاشی ترقی کے اثرات ڈیڑھ سے دو سال میں نظر آتے ہیں، گورنر تاہم معاشی ترقی کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ 8 ماہ سے بڑی صنعتوں کی ترقی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، رواں مالی سال 5 ماہ میں لارج اسکیل مینیوفیکچرنگ (ایل ایس ایم) نے 6 فیصد ترقی کی۔
یاد رہے کہ 15 دسمبر 2025 کو ہونے والے اپنے گزشتہ اجلاس میں مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے مارکیٹ توقعات کے برعکس پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے اسے 10.5 فیصد کردیا تھا۔