لاہور میں داتا دربار کے قریب ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک خاتون اپنی دس ماہ کی بیٹی کے ہمراہ کھلی سیوریج لائن میں گر گئیں۔ ریسکیو حکام نے غوطہ خور ٹیم کی مدد سے دونوں کی لاشیں نکال لی ہیں۔
پولیس اور ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ٹیپا کے جاری ترقیاتی منصوبے کے دوران پیش آیا، جہاں سیوریج لائن پر حفاظتی ڈھکن موجود نہیں تھا۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ چھ گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن کے بعد خاتون اور بچی کی لاشیں برآمد کی گئی ہیں۔
واسا کے ترجمان کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب علاقے میں ترقیاتی کام جاری تھا اور ابتدائی معلومات کے مطابق حفاظتی ڈھکن نہ ہونے کی وجہ سے یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔
واقعے کے وقت خاتون کے شوہر اور ساس بھی جائے وقوعہ پر موجود تھے، تاہم دونوں کی جانب سے دیے گئے بیانات ایک دوسرے سے مختلف تھے، جس کی وجہ سے معاملہ مزید الجھ گیا۔
پولیس نے صورتِحال واضح کرنے کے لیے شوہر اور ساس کو تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
سانحے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نوٹس لیتے ہوئے حادثے کے فوری بعد ڈی جی ایل ڈی اے نے داتا دربار منصوبے پر کام کرنے والی پوری ٹیم کو معطل کر دیا، جس میں پراجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور سب انجینئر شامل ہیں۔
قبل ازیں صرف پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر کو معطل کیا گیا تھا۔
دریں اثنا واقعے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں ٹیپا کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹیپا کے ٹھیکدار نے مین ہول کھولنے کے باوجود حفاظتی انتظامات نہیں کیے۔ شہریوں کو خبردار کرنے کے لیے کوئی بورڈ نہیں لگایا گیا، مین ہولز کے اردگرد بیرئیرز نہیں لگائے گئے اور سیکورٹی عملہ بھی تعینات نہیں کیا گیا۔
ٹیپا کے چیف انجینئر اقرار حسین سے بھی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جو ذمہ داروں کا تعین کرے گی اور آئندہ ایسے واقعات سے بچاؤ کے لیے سفارشات پیش کرے گی۔