بھارت کے شہر غازی آباد میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک ہی خاندان کی تین کمسن بہنوں نے مبینہ طور پر عمارت کی نویں منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی۔ پولیس کے مطابق تینوں بہنیں ایک آن لائن کورین موبائل گیم کی شدید عادی تھیں، جس نے آہستہ آہستہ ان کی دنیا بدل دی اور بالآخر یہ جنون جان لیوا ثابت ہوا۔
بھارتی نشریاتی ادارے انڈیا ٹوڈے کے مطابق واقعے کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ 16 سالہ نشیکا، 14 سالہ پراچی اور 12 سالہ پاکھی اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت موبائل فونز پر گزارتی تھیں۔ یہ تینوں بچیاں کوریا کی آن لائن گیمنگ ایپ کی شدید عادی تھیں۔
بچیوں کے والد چیتن کمار نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں کوئی اندازہ نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ گیم میں کُل 50 ٹاسک تھے اور بچیاں گیم کا آخری ٹاسک مکمل کر رہی تھیں۔
چیتن کمار نے کہا کہ میری 14 سالہ بیٹی اس کھیل کی لیڈر تھی، وہی فیصلے کرتی تھی کہ کون سا ٹاسک کیسے پورا کرنا ہے۔ وہ ہمیشہ ایک ساتھ کھیلتی تھیں اور ان کسی کو شک نہیں ہونے دیا کہ وہ اتنا خطرناک کام کر رہی ہیں۔
والد نے شک ظاہر کیا کہ بچیوں نے کھیل کا ایک ٹاسک مکمل کرنے کے لیے ہی عمارت کی بالکونی سے چھلانگ لگائی اور اس کے لیے چھوٹی سیڑھی کا استعمال کیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ رہائشیوں نے رات کے سناٹے میں زور دار آواز سن کر پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد تینوں لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق بچیوں کی ڈائری میں کورین ثقافت سے غیر معمولی لگاؤ کا اظہار کیا گیا ہے۔ ڈائری کے مطابق تینوں بہنیں کے-پاپ، کورین فلموں، میوزک، شارٹ فلمز، ڈراموں اور ویب سیریز سے بے حد متاثر تھیں۔ پولیس کے مطابق لڑکیوں نے ڈائری میں خود کو تنہا محسوس کرنے اور جذباتی دباؤ کا بار بار ذکر کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ والدین نے موبائل فون کے زیادہ استعمال اور مخصوص مواد دیکھنے پر اعتراض کیا تھا اور کچھ عرصے کے لیے فون استعمال کرنے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ حکام کے مطابق یہی پابندی لڑکیوں کے لیے شدید ذہنی صدمے کا باعث بنی اور انہوں نے یہ انتہائی قدم اٹھا لیا۔
پولیس نے ایک صفحے پر مشتمل خودکشی نوٹ بھی تحویل میں لے لیا ہے، جس پر روتے ہوئے ایموجی کے ساتھ لکھا تھا کہ ’یہ ایک سچی کہانی ہے، اس ڈائری میں جو کچھ لکھا ہے وہ سب پڑھ لینا، کیونکہ سب سچ ہے۔ سوری پاپا، میں واقعی بہت اکیلی ہوں۔‘
ابتدائی طور پر یہی شبہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ لڑکیاں کسی کورین ٹاسک بیسڈ آن لائن گیم کی عادی تھیں، تاہم پولیس حکام کے مطابق ابھی یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ خودکشی کا براہِ راست تعلق آن لائن گیمنگ سے ہی تھا۔ تفتیش میں خاندان کے افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور بچیوں کے موبائل فونز اور ڈیجیٹل سرگرمیوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سائبر ماہرین کو بھی اس معاملے میں شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ آن لائن ایپ کے استعمال اور ڈیجیٹل تعاملات کی جانچ کی جا سکے۔
اس افسوسناک واقعے نے نہ صرف مقامی کمیونٹی بلکہ ملک بھر میں والدین اور نوجوانوں کے درمیان آن لائن سرگرمیوں اور ان کی ممکنہ خطرناک عادات کے بارے میں ایک مرتبہ پھر ایک فکری بحث کو جنم دیا ہے۔
یہ اندوہناک حادثہ نیا نہیں بلکہ ماضی میں بھی بچوں اور نوجوانوں میں آن لائن گیمز کی لت یا خطرناک ٹاسکس کی وجہ سے المناک نتائج سامنے آ چکے ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا میں موجود کچھ گیمز اور چیلنجز محض تفریح نہیں بلکہ بچوں کی ذہنی صحت اور جان کے لیے سنگین خطرہ بن رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین بار بار اس بات پر زور دیتے ہیں کہ والدین بچوں کے انٹرنیٹ استعمال پر نظر رکھیں، ان سے مسلسل مکالمہ کریں، اور انہیں ایسی آن لائن سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت آگاہی اور رہنمائی فراہم کریں۔