لاپتہ افراد کی آڑ میں فتنہ الہندوستان اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب – Pakistan



Ads

بلوچستان میں نام نہاد لاپتہ افراد کی آڑ میں فتنہ الہندوستان، بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دہشت گردی کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوگیا ہے۔

بلوچستان میں نام نہاد لاپتہ افراد کی آڑ  میں دہشت گردی، بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان  کے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتی ہے، جنوری کو بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملوں کو سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائیوں سے ناکام بنا دیا گیا۔ 

مستونگ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی  کی نام نہاد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی جہنم واصل ہوئے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی  کی لاپتہ افراد کی فہرست میں دہشت گرد  عبدالحمید اور راشد بلوچ بھی شامل تھے، جنہیں  جہنم واصل کیا گیا۔ اس سے قبل بھی فتنہ الہندوستان کے مارے جانے والے متعدد دہشت گرد  لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے۔

2025 میں قلات میں آپریشن کے دوران ہلاک دہشت گرد صہیب لانگو  اور مارچ 2024 کو گوادر حملے میں مارے جانے والا دہشت گرد کریم  جان بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی  کی  لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ نیول بیس حملے میں مارے جانے والا دہشت گرد عبدالودود بھی نام نہاد لاپتہ افراد کی فہرست  میں شامل تھا۔

ناقابل تردید شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نام نہاد لاپتہ افراد کا بیانیہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی  معصوم بلوچ نوجوانوں کو احساس محرومی کا جعلی بیانیہ بنا کر جذباتی طور پر اپنے جال میں پھنساتی ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نوجوانوں کو  حساس محرومی کے گمراہ کن بیانیہ میں الجھا کر بالآخر فتنہ الہندوستان کے حوالے کردیتی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی گھناؤنے طریقے سے قوم پرستی کی بنیاد پر ریاست مخالف جذبات ابھار کر مقامی افراد کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

فتنہ الہندوستان ان بلوچ نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکا کر انہیں  مسلح بغاوت اور دہشتگردی کیلئے استعمال کرتی ہے۔ شواہد سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان دہشتگردی میں ملوث مربوط نیٹ ورک  کیلئے غیر ملکی معاونت کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ’’را‘‘ اور نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان کم عمر بلوچ بچیوں کو بلیک میلنگ کے ذریعے  خودکش حملہ آور بنانے کے انسانیت سوز فعل میں بھی ملوث  ہیں۔ یہ انکشاف بھی 29 دسمبر 2025 کو سامنے آیا کہ معصوم بلوچ نوجوانوں کی سوشل میڈیا کے ذریعہ ذہن سازی اور بھرتی کی جاتی ہے۔ 

ماہرین کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان معصوم نوجوانوں کی بھرتی ، مقامی حمایت اور دہشت گرد کارروائیوں کو منطقی  جواز دینے کا ایک مربوط نیٹ ورک ہے۔ نام نہادلاپتہ افراد کی فہرست میں شامل دہشت گردوں کی ہلاکت سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کا بے بنیاد پروپیگنڈا زمیں بوس ہو چکا ہے۔

#بلوچستان میں 25 دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیے

دوسری جانب بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن ردّالفتنہ کے نمایاں ثمرات آنے شروع ہو گئے، علاقے کے بدنام دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیے۔

بلوچستان میں قیامِ امن کےلیے سیکیورٹی فورسز اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے بھائی میر آفتاب بگٹی کی کوششیں کامیاب ہونے لگیں، بلوچستان میں دہشت گردی، لوٹ مار اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے گروہ نے ریاستِ پاکستان کے سامنے سرنڈر کردیا۔

میراک خان چکرانی نے 25 ساتھیوں سمیت ریاست کے سامنے سرنڈر کرکے ہتھیار ڈال دیے۔

سرنڈر کرنے والا گروہ ماضی میں ڈکیتی اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں ملوث رہا، سرنڈر کرنے والے عناصر نے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی جمع کرایا جب کہ میراک خان چکرانی نے شدت پسند عناصر کے خلاف چکرانی امن فورس میں شمولیت کا بھی اعلان کردیا۔

آپریشن ردّالفتنہ کی بہترین حکمت عملی سے بلوچستان کے دیگر شدت پسند اور جرائم پیشہ عناصر بھی جلد ریاست کے سامنے سرنگوں ہوں گے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *