آئی سی سی مذاکرات: مہمان گھر آئے تو بہت سی باتیں بھلا دی جاتی ہیں، چیئرمین پی سی بی – Sports



Ads

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ کے درمیان بات چیت جاری ہے، وہاں سے کوئی اطلاع آئے گی تو اس پر تبصرہ کریں گے۔ جب کوئی مہمان خود چل کر گھر آجائے تو بہت سی باتیں بھلا دی جاتی ہیں۔

چیئرمین پی سی محسن نقوی نے لاہور میں ملتان سلطانز کی نیلامی کی تقریب کے بعد نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈکپ میں مسئلہ بنگلادیش اور آئی سی سی کے درمیان تھا۔ بنگلادیش ہمارا برادر ملک ہے، ان کی حمایت کے لیے وہی کیا جو کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت آئی سی سی اور بنگلادیش کے درمیان بات چیت جاری ہے، کوئی اطلاعات سامنے آئیں گی تو پھر اس پر تبصرہ کریں گے۔

آئی سی سی کی جانب سے ممکنہ پابندیوں سے متعلق سوال پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ نہ میں دھمکیوں سے ڈرتا ہوں اور نہ ہی حکومت ڈرتی اور فیلڈ مارشل کو تو آپ جانتے ہی ہیں۔

مذاکرات کے دوران آئی سی سی کے رویے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ مہمان کی عزت کرنا سیکھا ہے اور جب کوئی خود چل کر گھر آجائے تو بہت سی باتیں بھلا دی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر کچھ دوست ممالک بھی رابطے میں ہیں، ہم نے انہیں اپنے مؤقف سے آگاہ کردیا ہے، جلد ہی سب کچھ واضح ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ بنگلادیش نے سیکیورٹی خدشات کی بنا پر بھارت میں شیڈول ورلڈکپ میچز سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کی تھی جسے آئی سی سی نے مسترد کردیا تھا اور بنگلا دیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو ایونٹ میں شامل کرلیا تھا۔

اس کے جواب میں پاکستان نے بنگلادیش سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ورلڈکپ میں بھارت سے شیڈول میچ نہ کھیلنے کا اعلان کیا۔ تاہم اس فیصلے کے بعد آئی سی سی کی جانب سے پاکستان کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ کھیلنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔

اسی سلسلے میں گزشتہ روز لاہور میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کے درمیان طویل ملاقات ہوئی جو چار گھنٹے تک جاری رہی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، پاک بھارت میچ اور کرکٹ کے حوالے سے مختلف معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ مذاکرات میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے واضح طور پر مؤقف اپنایا گیا کہ وہ اپنے لیے کسی قسم کی رعایت یا فوائد حاصل کرنے کی خواہش مند نہیں تاہم بنگلا دیش کے ساتھ ہونے والی ناانصافی پر خاموش نہیں رہ سکتا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *