بغیر اجازت رحم نکلوانے کا معاملہ، ادت نارائن کے خلاف پہلی اہلیہ عدالت پہنچ گئیں – Life & Style



Ads

سینئر بھارتی گلوکار ادت نارائن کو سال بھر پرانے مقدمے میں نئے الزامات کا سامنا رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ادت نارائن کی پہلی اہلیہ رنجنا نے گلوکار کے خلاف ریاست بہار کے ضلع سپول کے خواتین پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ہے۔

رنجنا نے درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ میری رضامندی اور علم میں لائے بغیر ادت نارائن اور ان کی دوسری اہلیہ نے آپریشن کے بہانے میری بچہ دانی نکلوا دی تھی۔

رنجنا نے 10 فروری کو بہار کے ضلع سپول کے خواتین پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرواتے ہوئے الزام لگایا کہ یہ کارروائی ایک منصوبہ بند سازش کے تحت کی گئی، جس میں ادت نارائن کے دو بھائیوں اور ان کی دوسری اہلیہ دیپا نارائن بھی شامل تھیں۔

انھوں نے کہا 1996 میں انہیں علاج کے بہانے دہلی کے ایک اسپتال لے جایا گیا۔ جہاں ان کی اجازت اور علم میں لائے بغیر ان کا رحم نکال دیا گیا۔ اس موقع پر ادت کے بھائی سنجے کمار اور للت نارائن اور دوسری بیوی دیپا بھی وہاں موجود تھیں۔

انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس سرجری کے بارے میں کئی سال بعد ایک طبی معائنے کے دوران معلوم ہوا جس پر میں شدید ذہنی صدمے سے دوچار ہوئیں۔

رنجنا نے اپنی شکایت میں کہا کہ ان کی اور ادت نارائن کی شادی 7 دسمبر 1984 کو ہوئی تھی۔ ادیت 1985 میں اپنے موسیقی کے کیریئر کو آگے بڑھانے کے لیے ممبئی منتقل ہو گئے۔ 

رنجنا نے دعویٰ کیا کہ انہیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ ادت نے ایک اور خاتون دیپا سے شادی کر لی ہے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ جب بھی انہوں نے اس بارے میں شوہر سے پوچھا تو وہ انہیں گمراہ کرتے رہے۔

واضح رہے کہ رنجنا نارائن جھا کی جانب سے دائر نان و نفقہ کا مقدمہ بھی تاحال زیرِ سماعت ہے، جبکہ تازہ شکایت کے بعد معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔



Source link

Post Comment