کراچی کی مصروف ترین شاہراہ ایم اے جناح روڈ پر قائم گل پلازہ کی آتشزدگی سے متاثرہ عمارت کے بیسمنٹ میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھی تاہم فائر ٹینڈرز نے آتشزدگی پر قابو پالیا جب کہ پولیس نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ آگ نشے کے عادی شخص سے لگی، جسے عمارت کے اندر سے حراست میں لے لیا گیا ہے۔
کراچی کے علاقے میں واقعہ گل پلازہ میں ایک بار پھر آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں دھوئیں نے سوختہ عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا جب کہ آگ لگنے کی وجوہات تاحال معلوم نہ ہوسکیں۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیم نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا، جس کے بعد کولنگ کا عمل جاری ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کے بیسمنٹ میں واقع ایک دکان میں آگ لگی، جس کے بعد وہاں سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنوبی عاصمہ بتول کے مطابق عمارت پہلے ہی سیل تھی اور اس وقت یہ واضح نہیں کہ آگ کتنی دکانوں تک پھیلی ہے۔ ان کے مطابق ریسکیو ٹیمیں اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ نشے کے عادی افراد عمارت کے اندر موجود تھے، جن کی وجہ سے آگ لگی جب کہ جائے وقوعہ سے کچھ نشئی افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
دوسری جانب گل پلازا مینجمنٹ کمیٹی کے صدر تنویر پاستا نے بتایا کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ کسی سازش کا نتیجہ نہیں ہے، واقعے کے بعد پولیس نے تین نشئی افراد کو حراست میں لیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آگ ممکنہ طور پر نشئی افراد کی جانب سے کاپر جلانے کے سبب لگی، گل پلازہ سیل ہے عید کے موقع پر نشئی افراد اندر داخل ہوئے۔
تنویر پاستا نے بتایا کہ عمارت کی موجودہ حالت خراب ہونے کی وجہ سے آئندہ ہفتے گل پلازا کو مسمار کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ 17 جنوری 2026 کو بھی کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع اسی گل پلازا میں شدید آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں آگ تین روز تک بھڑکتی رہی اور اس سانحے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔