اسرائیلی حملوں کا جواب، تل ابیب سمیت مختلف شہروں پر ایرانی میزائلوں کی برسات کا سلسلہ جاری – World



08130843c55be3f اسرائیلی حملوں کا جواب، تل ابیب سمیت مختلف شہروں پر ایرانی میزائلوں کی برسات کا سلسلہ جاری - World

ایران نے اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایک بار پھر صیہونی ریاست پر میزائلوں کی برسات کردی ہے۔

اسرائیلی فوج نے باقاعدہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران کی جانب سے میزائلوں کی دوسری بڑی لہر داغ دی گئی ہے جس کے بعد پورے اسرائیل میں خطرے کے سائرن بج اٹھے ہیں اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کے جواب میں ایران نے رات گئے اسرائیل پر بیلسٹک میزائل داغ دیے۔ جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی ایران کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان پیر کے روز علی الصبح ہونے والے حملوں کے بعد یمن کے حوثی باغیوں نے بھی اسرائیل پر میزائل داغ دیے اور خبردار کیا کہ وہ بحیرہ احمر میں اسرائیل سے وابستہ تمام بحری جہازوں کو نشانہ بنائیں گے۔

حوثیوں کی یہ نئی دھمکی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب آبنائے ہرمز کے متبادل کے طور پر بحیرہ احمر کے راستے تیل برآمد کرنے کے لیے اپنی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر انحصار کر رہا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اسرائیلی حملوں کے فوری بعد ایران نے اپنے ملک کے سب سے بڑے ہوائی اڈے، تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے گرد فضائی حدود کو ہر قسم کی پروازوں کے لیے بند کر دیا ہے، جبکہ دوسری طرف اسرائیلی فوج نے بھی اپنے شہریوں کے لیے نئی ہدایات جاری کرتے ہوئے ملک بھر میں اسکول بند کر دیے ہیں اور بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جنوب مغربی ایران کے شہر ماہشہر میں واقع ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنایا ہے، تاہم انہوں نے اس حملے کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسیوں فارس اور مہر نے بھی تصدیق کی ہے کہ صوبہ خوزستان کے شہر ماہشہر میں کارون پیٹروکیمیکل پلانٹ پر دو اسرائیلی حملے ہوئے ہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور نقصان کے حجم کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

اس ہنگامی صورتحال کے پیشِ نظر ماہشہر پورٹ کی گورنرشپ نے شہر کے تمام دفاتر میں عملے کی حاضری تیس فیصد تک کم کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ بجلی، پانی، گیس اور ایمرجنسی سروسز کو اس پابندی سے الگ رکھا گیا ہے۔

دوسری طرف، ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسرائیل کو سخت الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ وہ لبنان پر اپنے حملے فوراً روک دے ورنہ نتائج اس سے بھی زیادہ تباہ کن ہوں گے۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے ایک باقاعدہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کے رامات ڈیوڈ ائیر بیس کو آئی آر جی سی ایروسپیس فورس کے بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ جنگ بندی کی قبولیت اس شرط پر تھی کہ تمام محاذوں پر فائرنگ بند ہو، لیکن امریکا اور اسرائیل نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، اس لیے اب خطے میں تمام امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اسرائیل کو اس کرارے جواب کی خبر ملتے ہی ایران کے دارالحکومت تہران میں جشن کا سماں بن گیا اور ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے جنہوں نے اپنی افواج کے حق میں زبردست نعرے بازی کی۔

اس نئی کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیچھے ہٹنے کی درخواست کو نظر انداز کرتے ہوئے اتوار کے روز اچانک بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر شدید بمباری کی، جس پر تہران نے سخت جوابی کارروائی کا انتباہ دیا تھا۔

دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس کشیدگی پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے تمام صورتحال کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔

اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کو مکمل طور پر امریکی پشت پناہی حاصل ہے اور امریکا اس خطے میں کشیدگی کو دوبارہ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے جنگ بندی کے حوالے سے ایران کا موقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ ہم جنگ بندی کے پابند تھے لیکن اسرائیل نے اس کی خلاف ورزی کی، اور جو کچھ اس وقت خطے میں ہو رہا ہے وہ سب امریکا کی پلاننگ کا حصہ ہے۔

ایرانی ترجمان نے اپنے ملک کے دفاع کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملکی دفاع کے لیے ہم ہر وقت تیار ہیں کیونکہ لبنان اس جنگ بندی معاہدے کا ایک اہم حصہ تھا اور ہم جنگ بندی کی اس کھلی خلاف ورزی پر کسی صورت خاموش نہیں رہ سکتے۔

اسماعیل بقائی نے عالمی برادری کو متنبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیلی حکومت خطے میں امن کی خواہاں نہیں ہے اور وہ پورے خطے کو تباہی کی طرف لے جا سکتی ہے کیونکہ اسرائیل کسی بھی سفارتی اصول کا احترام نہیں کرتا۔

انہوں نے عرب ممالک کے کردار پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے یہ سنگین انکشاف بھی کیا کہ کئی عرب ممالک کی سرزمین اس وقت ایران کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔

انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی نیت پر ہمیں پہلے ہی شک تھا جو اب سچ ثابت ہو چکا ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *