حکومت کے کفایت شعاری اجلاس میں عوام پر مہنگائی کا بوجھ مزید ڈالنے کا پلان تیار کر لیا گیا، وزیراعظم کی زیر صدارت سیاسی اور عسکری قیادت کی بیٹھک میں توانائی بحران، کفایت شعاری اورخلیجی جنگ پر غورکیا گیا، وزیراعظم نے کہا جنگ ختم کرانے کی کوشش کر رہے ہیں جس میں فیلڈ مارشل کا کلیدی کردار ہے۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں خطے میں جاری جنگی صورت حال کے باعث ملکی معیشت اور عوام کی حفاظت پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ اب اشرافیہ کو قربانی دینی ہوگی اور وفاقی و صوبائی سطح پر کم اہم منصوبوں پر کام روک کر فنڈز جمع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عام آدمی اور غریب طبقے کا تحفظ کیا جا سکے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں قومی یکجہتی، اتحاد اور سیاسی استحکام برقرار رکھتے ہوئے تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے معاشی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وفاق نے اب تک 129 ارب روپے کا بوجھ اٹھایا اور پاکستان جنگ بندی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے، اﷲ کے فضل و کرم سے خطے میں امن قائم ہو گا۔
وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ خطے میں جنگ دوسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور اس میں ہونے والی شہادتوں پر افسوس ہے۔ پاکستان نے مخلص دوست اور برادر ملک کے طور پر خطے میں جنگ کے شعلے کم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے ایران اور دیگر ممالک کے ہم منصبوں سے مسلسل رابطے رکھے اور اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے اور پاکستان نے جنگ بندی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے ہیں۔ اﷲ کے فضل و کرم سے یہ کوششیں کامیاب ہوں گی۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل کی کاوشوں سے ہمارے دو بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں، پاکستانی پرچم بردار مزید 20 بحری جہازوں کو بھی آبنائے ہرمز سے گزارنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہماری ٹیم نے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سے ملاقاتیں کیں اور انہیں تمام صورت حال سے آگاہ کیا۔ پہلے ہفتے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے کا اضافہ کرنا پڑا، جس میں پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی حصہ لیا، اور تیل کی بچت کے لیے 60 فیصد گاڑیوں کا استعمال بند کر دیا گیا۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لی۔ وزیراعظم نے صدر مملکت کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اجلاس بلائے اور ایک مثبت ماحول میں معاملات کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں چاروں صوبوں اور گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم، وفاقی وزرا اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی شریک تھے۔ وزیراعظم نے اجلاس میں کہا کہ اشرافیہ کو ایثار اور قربانی کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور کم اہم منصوبے روک کر فنڈز کی بچت کرکے عام آدمی کی فلاح پر خرچ کی جائے۔
وزیراعظم نے زور دیا کہ زرعی شعبے، پبلک ٹرانسپورٹ اور ضروری گڈز کی حفاظت کی جائے تاکہ مہنگائی کے اثرات کم سے کم ہوں، اور ملک میں سیاسی و معاشی استحکام برقرار رہے۔