امریکا کو سفارت کاری یا محاذ آرائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: کاظم غریب آبادی – World



0222573961f634f امریکا کو سفارت کاری یا محاذ آرائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: کاظم غریب آبادی - World

ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ ملک ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیار ہے اور امریکا کو اب سفارت کاری یا محاذ آرائی میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا، جب کہ دونوں ممالک کے درمیان فی الحال جنگ بندی برقرار ہے۔

الجزیرہ‘ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران ہر قسم کی جارحیت کا مؤثر جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اپنی قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

تہران میں تعینات سفیروں اور غیر ملکی سفارتی مشنز کے سربراہان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران مفادات پر مبنی سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے اور تنازعات کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے اپنی تجویز پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچائی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اب فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ وہ سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتا ہے یا محاذ آرائی کو جاری رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دونوں راستوں کے لیے تیار ہے تاکہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، تاہم امریکا کے حوالے سے بداعتمادی برقرار ہے۔

دوسری جانب ’سی این این‘ کے مطابق ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ دوبارہ کشیدگی پیدا ہونے کا امکان موجود ہے، خاص طور پر اس کے بعد جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی حالیہ امن تجویز کو مسترد کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ ہو تو امریکا ممکنہ طور پر بہتر پوزیشن میں ہو سکتا ہے، جس سے مذاکراتی عمل مزید غیر یقینی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔

ادھر ایرانی حکام نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ پر ایران کی نگرانی برقرار رہے گی۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جہاز رانی کمپنیاں اس راستے سے گزرنے کے لیے ادائیگیاں کرتی ہیں تو انہیں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس کشیدہ صورتِ حال کے باعث تیل کی عالمی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔ جنگ سے قبل ہر ماہ تقریباً تین ہزار جہاز اس راستے سے گزرتے تھے، تاہم حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں یہ تعداد کم ہو کر صرف ایک سو چون رہ گئی۔

ایرانی میڈیا کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران اور اس سے وابستہ 81 بحری جہاز امریکی مبینہ بحری محاصرے کے باوجود آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ جہاز خطے میں جاری کشیدگی اور پابندیوں کے ماحول کے باوجود اپنی منزل کی جانب روانہ ہو سکے۔

یاد رہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کا تنازع فروری کے آخر میں شروع ہوا تھا اور آٹھ اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے، جب کہ پاکستان اس تنازع میں مؤثر انداز میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے تاہم اب تک کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *