امریکا کے متضاد مؤقف اور اسرائیلی حملے سفارتی پیش رفت میں رکاوٹ ہیں: ایران – World



011700458b3709a امریکا کے متضاد مؤقف اور اسرائیلی حملے سفارتی پیش رفت میں رکاوٹ ہیں: ایران - World

ایران نے امریکا کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ہونے والی سفارتی کوششوں میں سست روی کا ذمہ دار اعتماد کے فقدان، واشنگٹن کے متضاد مؤقف اور خطے میں جاری اسرائیلی حملوں کو قرار دیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ موجودہ ماحول میں کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا ابھی ممکن نہیں ہو سکا۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ ایرانی مذاکراتی وفد اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات کا تبادلہ شدید شکوک و شبہات اور باہمی عدم اعتماد کے ماحول میں جاری ہے، جس کے باعث مذاکرات مطلوبہ رفتار سے آگے نہیں بڑھ رہے۔

انہوں نے کہا کہ مخالف فریق کی جانب سے بار بار مؤقف تبدیل کرنے، نئے اور بعض اوقات متضاد مطالبات سامنے لانے کے باعث مذاکراتی عمل طویل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات کا آغاز اعتماد کی موجودگی کا مطلب نہیں ہوتا اور موجودہ مرحلے پر دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام کی تفصیلات پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگر متضاد بیانات امریکا کی مذاکراتی حکمت عملی کا حصہ ہیں تو یہ ایران کے ساتھ کامیاب نہیں ہو سکتے، اگر یہ صورتِ حال امریکی انتظامیہ کے اندر پائی جانے والی بے ترتیبی کی عکاس ہے تو واشنگٹن کو جلد از جلد واضح اور حتمی مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی جارحانہ کارروائیاں جنگ بندی کے منافی ہیں اور انہی حملوں کے نتیجے میں ایران کو ان مقامات کے خلاف جوابی کارروائی کرنا پڑی جو حملوں کے لیے استعمال ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال ہونے والے اڈوں اور عسکری وسائل کو نشانہ بنانا ایران کے حقِ دفاع کے دائرے میں آتا ہے۔ ان کے مطابق ریاستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا وسائل کسی دوسرے ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔

اسماعیل بقائی نے یورپی یونین کے حالیہ مؤقف پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے حقِ دفاع پر سوال اٹھانے والے یورپی بیانات منافقانہ اور غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کو قانون کی حکمرانی اور اقوام متحدہ کے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے اور غیر قانونی حملوں کا جواب دینے والے ممالک کو مورد الزام ٹھہرانا بند کرنا چاہیے۔

لبنان کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے ایرانی ترجمان نے کہا کہ تہران خطے میں اسرائیلی اقدامات کو امریکا سے الگ نہیں دیکھتا۔ ان کے مطابق لبنان میں صہیونی حکومت کے جرائم کی ذمہ داری بھی امریکا پر عائد ہوتی ہے اور لبنان میں جنگ بندی کسی بھی ایسے معاہدے کا لازمی حصہ ہونی چاہیے جو امریکا کے ساتھ جنگی کشیدگی کے خاتمے کے لیے طے پائے۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر دوبارہ حملوں کا حکم دیا ہے۔ یہ علاقہ حزب اللہ کا اہم گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران اب بھی اپنے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی کے بنیادی مطالبے پر قائم ہے اور اس معاملے کو مذاکراتی عمل کا اہم جزو سمجھتا ہے۔

دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ اس نے حالیہ دنوں میں ایرانی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جب کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جواب میں کویت میں واقع ایک امریکی اڈے پر حملہ کیا گیا۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے کویتی حکام سے مطالبہ بھی کیا کہ زیر حراست چار ایرانی شہریوں کے معاملے پر جلد از جلد وضاحت فراہم کی جائے۔

اسماعیل بقائی نے خطے کے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں اور اپنی سرزمین یا صلاحیتوں کو ایران کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہ دیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *