امریکی بحری ناکہ بندی: ایران نے چین کو تیل بھیجنے کا نیا راستہ ڈھونڈ لیا – World



28123406d2e30e3 امریکی بحری ناکہ بندی: ایران نے چین کو تیل بھیجنے کا نیا راستہ ڈھونڈ لیا - World

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کے باعث تہران نے اپنی معیشت کو بچانے کے لیے ایک نیا اور غیر روایتی راستہ تلاش کر لیا ہے۔

امریکی جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق، سمندری راستوں پر امریکی پہرے کے باعث ایران اب ٹرینوں کے ذریعے خام تیل چین بھیجنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ قدم ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ایران میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہو چکی ہے اور صورتحال اس حد تک سنگین ہو گئی ہے کہ تہران اب کچرے کے ڈھیروں اور پرانے ناکارہ ٹینکوں میں تیل رکھنے پر مجبور ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اپنا تیل ذخیرہ کرنے یا برآمد کرنے میں ناکام رہا تو اسے اپنے تیل کے کنویں مکمل طور پر بند کرنے پڑیں گے، جو اس کی معیشت کے لیے ایک جان لیوا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپریل کے وسط میں آبنائے ہرمز کی سخت بحری ناکہ بندی کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد ایرانی معیشت کو اس ’شٹ ان‘ پوائنٹ تک پہنچانا ہے جہاں اس کے پاس تیل رکھنے کی جگہ باقی نہ رہے اور اسے پیداوار بند کرنی پڑے۔

صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی تیل کی صنعت کے پاس صرف تین دن باقی ہیں، جس کے بعد یہ نظام بیٹھ جائے گا اور اسے دوبارہ بحال کرنا ناممکن ہوگا۔

تاہم، توانائی کے ماہرین صدر ٹرمپ کے اس مختصر وقت سے اتفاق نہیں کرتے۔

یوریشیا گروپ کے بانی ایان بریمر کا کہنا ہے کہ امریکا ایران پر ناقابلِ برداشت معاشی دباؤ ڈال کر اسے اپنی شرائط پر امن معاہدے پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس ابھی تقریباً ایک ماہ کی گنجائش باقی ہے۔

جبکہ وولف ریسرچ کے تجزیہ کار ٹوبن مارکس کا خیال ہے کہ ایران مزید دو ماہ تک یہ دباؤ برداشت کر سکتا ہے۔ ٹوبن مارکس نے صدر ٹرمپ کے تین دن والے دعوے کو ’سراسر لغو‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر کا منصوبہ دراصل ایران کو انتظار کی سولی پر لٹکانا ہے تاکہ زمینی جنگ سے بچا جا سکے۔

واضح رہے کہ تیل کے کنوؤں کو بند کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ انجینئرز کے مطابق ایک بار پیداوار رک جائے تو کنوؤں کو دوبارہ شروع کرنا انتہائی مشکل اور مہنگا عمل ہوتا ہے، اور اس سے تیل کے ذخائر کو مستقل جغرافیائی نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے۔

ایران کا تقریباً 90 فیصد تیل ’خارگ آئی لینڈ‘ سے برآمد ہوتا ہے جہاں 20 سے 30 ملین بیرل تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، لیکن موجودہ حالات میں یہ گنجائش چند ہفتوں میں بھر سکتی ہے۔

پینگیا پالیسی کے تجزیہ کار ٹیری ہینز نے ایران کی حالیہ امن تجویز کو ’غیر سنجیدہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایٹمی پروگرام پر بات چیت کو موخر کرنا چاہتا ہے جو امریکا کو کسی صورت قبول نہیں۔

اس وقت عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ چکی ہیں اور پوری دنیا کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آیا ٹرینوں کے ذریعے تیل کی منتقلی کا یہ انوکھا منصوبہ ایران کو معاشی تباہی سے بچا پائے گا یا نہیں۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *