امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو چین کے صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کے لیے بیجنگ پہنچ گئے ہیں، یہ تقریباً ایک دہائی بعد کسی امریکی صدر کا دورۂ چین ہے جو ایران جنگ کی وجہ سے مؤخر ہوگیا تھا۔
امریکی صدر کا طیارہ ’ایئرپورٹ ون‘ اس وقت بیجنگ میں لیںڈ ہوچکا ہے۔ اس دورے میں صدر ٹرمپ کے ہمراہ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور امریکی کی معروف کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹیوز بھی موجود ہیں۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے اس تین روزہ دورے کو دونوں ملکوں کے تعلقات، عالمی سیاست اور معیشت کے لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2017 میں اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی چین کا دورہ کیا تھا۔
اس دوران صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان ریکارڈ 253.5 ارب ڈالر مالیت کے 34 سے زائد تجارتی معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے۔ تجارتی حجم کے لحاظ سے یہ عالمی تاریخ کے سب سے بڑے تجارتی پیکجز میں سے ایک تھا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب صدر ٹرمپ کو اندرونِ ملک سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث امریکی عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے، جب کہ اس تنازع کے معاشی اثرات کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافے نے بھی ٹرمپ کی مقبولیت کو متاثر کیا ہے۔
روانگی سے قبل صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صدر شی جن پنگ کے ساتھ سب سے زیادہ توجہ تجارتی معاملات پر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ چین امریکی زرعی اجناس اور ہوائی جہازوں کی خریداری میں اضافہ کرے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
امریکی حکام کے مطابق دونوں رہنما تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی معیشت سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ماہرین کے نزدیک یہ ملاقاتیں امریکا اور چین کے تعلقات کے مستقبل کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ کے استقبال کے لیے تقریباً 300 چینی نوجوان بھی موجود تھے، جو نیلے اور سفید رنگ کی یکساں وردیوں میں ملبوس تھے اور چینی پرچم اٹھائے رن وے کے کنارے مارچ کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ فوجی اعزازی دستہ اور فوجی بینڈ بھی تقریب کا حصہ تھے۔