امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو میں کہا ہے کہ ایران اور یوکرین میں جاری جنگیں ممکن ہے کہ ایک ہی ٹائم لائن کے اندر ختم ہو جائیں۔ امریکی صدر نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے حالیہ گفتگو کا بھی ذکر کیا جس میں انھوں نے بتایا کہ پیوٹن نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران افزودہ یورینیم کے معاملے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔
اوول آفس میں ’سی این این‘ کی صحافی کیٹلن کولنز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ دونوں تنازعات کے خاتمے کے امکانات ایک جیسے ہو سکتے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ اپنی حالیہ بات چیت کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یوکرین عسکری طور پر مشکلات کا شکار ہے، جب کہ ایران کے حوالے سے گفتگو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی بحری اور فضائی صلاحیت محدود ہو چکی ہے اور اس کے عسکری ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی کارروائیوں کے بعد خطے کی صورتِ حال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور ان کے مطابق وہ ابتدا میں سمجھتے تھے کہ ایران جنگ چار سے چھ ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے، تاہم یوکرین جنگ 2022 سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کا کوئی واضح امکان نظر نہیں آ رہا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پیوٹن کے ساتھ گفتگو میں ایران کے معاملے پر بھی مختصر بات ہوئی، تاہم زیادہ تر بات چیت یوکرین جنگ سے متعلق تھی۔ ٹرمپ کے مطابق دونوں تنازعات کے حل کے لیے کوششیں جاری ہیں اور وہ پرامید ہیں کہ جلد کوئی بہتر پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔
اسی گفتگو میں ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے ساتھ جاری تنازع کے دوران افزودہ یورینیم کے معاملے میں مدد کی پیشکش کی ہے۔ ان کے مطابق پیوٹن نے ٹیلی فونک رابطے میں کہا کہ وہ اس معاملے میں معاونت کرنا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پیوٹن کو واضح طور پر بتایا کہ پہلے یوکرین جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، اس کے بعد دیگر معاملات پر بات ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ماسکو اس سے قبل بھی ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر پر کنٹرول لینے کی تجویز دے چکا ہے، جیسا کہ 2015 کے جوہری معاہدے کے دوران اس کا کردار رہا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیوٹن طویل عرصے سے کسی معاہدے کے لیے تیار تھے، تاہم بعض رکاوٹوں کے باعث پیش رفت ممکن نہیں ہو سکی۔ ٹرمپ کے مطابق ان کی پیوٹن سے گفتگو مثبت رہی اور انہیں امید ہے کہ یوکرین تنازع کا حل جلد کسی نہ کسی صورت میں نکل آئے گا۔
واضح رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ 2022 سے جاری ہے، جب کہ ایران سے متعلق حالیہ تنازع نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔ عالمی سطح پر یہ دونوں تنازعات توانائی، سلامتی اور سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات ڈال رہے ہیں۔