ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے پیغام میں کہا ہے کہ ایران کا مؤثر دفاع جاری رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز کو بند رکھنا ضروری ہے، ایران اپنے شہداء کے خون کا انتقام ضرور لے گا۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے جمعرات کو اپنا پہلا باضابطہ پیغام جاری کیا۔ یہ پیغام پہلے ان کے آفیشل ٹیلی گرام چینل پر جاری کیا گیا جس کے بعد ایران کے سرکاری میڈیا پر نشر ہوا۔
آیت اللہ مجتبٰی خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ میرے والد دس رمضان المبارک کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ ہم اپنے شہداء کے خون کا انتقام لینے سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے خصوصاً میناب کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں میڈیا کے ذریعے مجلس خبرگان کے فیصلے کا علم ہوا۔ امام خمینی اور آیت اللہ علی خامنہ ای جیسے عظیم رہنماؤں کے بعد اس منصب کو سنبھالنا ایک مشکل ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمنوں کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے آبنائے ہرمز کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا رہے گا اور ضرورت پڑی تو دشمن کے خلاف مزید محاذ بھی کھولے جائیں گے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے ایرانی مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ طاقت کے ساتھ وطن کا دفاع کر رہی ہیں اور دشمن کے حملوں کا بھرپور جواب دے رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا خواہاں ہے اور اس نے کسی ہمسایہ ملک پر حملہ نہیں کیا۔ ایران نے صرف ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جہاں سے ایران کے خلاف حملے کیے جا رہے تھے۔
پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہم دشمن سے ان نقصانات کا ازالہ کروائیں گے۔ اگر وہ اس سے انکار کرے تو ان کو بھی برابر نقصان پہنچائیں گے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے مزید کہا کہ امریکی اور صیہونی جارحیت کے خلاف محاذ پر اتحاد اور یکجہتی جاری رہے گی۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ یمن نے بہادری کے ساتھ غزہ کے مظلوم عوام کا دفاع جاری رکھا، جب کہ حزب اللہ نے تمام رکاوٹوں کے باوجود ایران کی مدد کی۔ اسی طرح عراقی مزاحمتی گروہوں نے بھی اسی راستے پر ثابت قدمی سے پیش قدمی جاری رکھی۔
سپریم لیڈر نے ان تمام مزاحمتی محاذوں پر سرگرم جنگجوؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران مزاحمتی محاذ کے ممالک کو اپنا بہترین دوست سمجھتا ہے اور مزاحمت کی تحریک اسلامی انقلاب کی اقدار کا لازمی حصہ ہے۔
آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے ان کے لیے صبر کی دعا کی اور قوم کو یقین دلایا کہ ایران اپنے ہر شہید کے خون کا بدلہ لینے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
شہداء کے اہل خانہ سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی اس جنگ میں ذاتی نقصانات اٹھا چکے ہیں جن میں ان کے والد، اہلیہ، بہن، بھانجی اور بہنوئی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگی صورت حال برقرار رہی تو دشمن کے خلاف مزید محاذ کھولنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ خطے میں موجود تمام امریکی فوجی اڈے فوری طور پر بند کیے جائیں، بصورتِ دیگر انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ مشکل حالات میں بھی اتحاد برقرار رکھا جائے اور قومی امور میں فعال کردار ادا کیا جائے، خصوصاً رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو ہونے والے یوم القدس کے اجتماعات میں بھرپور شرکت کی جائے۔