جنوبی کوریا نے ایران جنگ کے ممکنہ طویل اثرات کے پیشِ نظر ایمرجنسی اقدامات کی تیاری شروع کر دی ہے، جس میں توانائی کی بچت کے لیے محدود تعداد میں گاڑیوں کو سڑک پر آنے کی اجازت بھی شامل ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں۔
جنوبی کوریا اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد خلیجِ فارس سے درآمد کرتا ہے، اس بحران سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔
جنوبی کورین میڈیا کے مطابق صدر لی جے میونگ نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حالات کے پیشِ نظر تیاری کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کابینہ کو خام تیل کی اضافی فراہمی اور متبادل ذرائع تلاش کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی بھی ہدایت کی۔
صدر نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ توانائی کی بچت کے لیے گاڑیوں پر نمبر پلیٹس کی بنیاد پر ’وہیکل ڈے سسٹم‘ نافذ کیا جائے۔ یہ نظام ’انرجی یوز ریشنلائزیشن ایکٹ‘ کے تحت طلب اور رسد کو مستحکم کرنے کے اقدامات‘ کے تحت نافذ کیا جائے گا۔
قانون کے مطابق وزارت توانائی یا وزارت تجارت مخصوص حالات میں توانائی کی بچت کے لیے مختلف آپریشنز کو محدود کر سکتے ہیں۔
جنوبی کوریا میں مخصوص دنوں میں گاڑیوں پر پابندی کا نظام توانائی کی بچت کا پرانا اور آزمودہ طریقہ ہے جسے اب دوبارہ نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ حکومت کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد پٹرول اور ڈیزل کی مانگ میں کمی لانا ہے تاکہ ملک کے تیل کے ذخائر کو طویل عرصے تک برقرار رکھا جا سکے۔
یہ نظام جنوبی کوریا میں پہلے بھی 1991 میں خلیجی جنگ اور 1997 میں سنگین مالی بحران کے دوران عارضی طور پر استعمال کیا جا چکا ہے۔ اس نظام کے تحت ہر گاڑی مخصوص دنوں میں ہی سڑک پر آ سکتی ہے اور ان پابندیوں کا نفاذ گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کے ہندسوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔
حکومت کے مطابق یہ پابندی صرف تیل کی قیمتوں کے مستحکم ہونے تک ہی برقرار رہے گی، تاہم صورتِ حال مزید بگڑنے پر دس روزہ نظام پابندی بھی لگائی جا سکتی ہے۔
صدر لی جائے میونگ نے ایران جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری سپلیمنٹری بجٹ (وار سپلیمنٹری بجٹ) تیار کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ انہوں نے قومی اسمبلی سے اپیل کی کہ جیسے ہی بجٹ پیش کیا جائے، اس کی فوری منظوری دی جائے۔
انہوں نے کابینہ اراکین کو تیاری کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جو کسی بھی انتہائی صورتِ حال میں معیشت اور توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھ سکیں۔