جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے معاملے پر اختلافات کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع میں امریکا کو سبکی کا سامنا ہے، ایرانی توقع سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئے۔ ایران جنگ کے ساتھ جو کچھ ہونا شروع ہوا اس کا شبہ مجھے پہلے دن سے تھا، امریکیوں کے پاس مذاکرات کی کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں۔
جرمن چانسلر نے کہا کہ ذاتی طور پر ان کے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات اب بھی بہتر ہیں تاہم بعض معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔ یہ اختلافات امریکا اور اس کے یورپی نیٹو اتحادیوں کے درمیان ایران سمیت دیگر امور، خصوصاً یوکرین تنازع، پر مختلف مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔
جرمن چانسلر نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش جیسے مسائل نے جرمنی اور یورپ کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی فراہمی اور معیشت پر براہِ راست اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برلن اور واشنگٹن کے درمیان اس معاملے پر رابطے جاری ہیں۔
اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں جرمن چانسلر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ فریڈرک مرز ایران کے جوہری ہتھیار رکھنے کو ”درست“ سمجھتے ہیں جب کہ وہ اس معاملے کو سمجھنے سے قاصر ہیں تاہم جرمن چانسلر اس سے قبل واضح کر چکے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے چاہئیں۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب فریڈرک مرز نے پیر کو امریکا پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کی قیادت نے امن مذاکرات کے لیے امریکی حکام کو پاکستان بلا کر نتائج کے بغیر واپس بھیج کر امریکا کو ”سبکدوش“ کیا۔
جرمن چانسلر نے مزید کہا تھا کہ انہیں واضح نہیں کہ امریکا اس تنازع سے نکلنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔
ادھر امریکی صدر نے نیٹو اتحادیوں پر بھی تنقید کی ہے کہ انہوں نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے اپنی بحریہ نہیں بھیجی، جو مارچ کے آغاز سے تقریباً بند ہے، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں بے چینی اور توانائی کی فراہمی میں غیر معمولی خلل پیدا ہوا ہے۔
اگرچہ ایران اور امریکا ۔ اسرائیل کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے تاہم تنازع تاحال تعطل کا شکار ہے اور دونوں فریق لڑائی کے باضابطہ خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔