امریکا کی مشہور اور سستی ترین فضائی کمپنی ’اسپرٹ ایئرلائنز‘ نے ہفتے کے روز اپنا آپریشن مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے ایران جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی معاشی بحران کی پہلی بڑی ’قربانی‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق گزشتہ دو ماہ کے دوران جیٹ فیول کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہوچکا ہے، جس کے باعث پہلے سے مالی مشکلات کا شکار اسپرٹ ایئرلائنز اپنا آپریشن جاری نہ رکھ سکی۔
امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی حکومت نے کہا ہے کہ کمپنی کو بچانے کے لیے بھرپور کوشش کی، تاہم قرض دہندگان نے امدادی پیکج مسترد کر دیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 50 کروڑ ڈالر کی امداد کی تجویز دی تھی لیکن ان کے فیصلے کو سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اسپرٹ‘ پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار تھی لیکن ایران جنگ نے ایندھن کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا، وہ کمپنی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ کمپنی نے اپنے بحالی کے منصوبے میں ایندھن کی قیمت کا 2.24 ڈالر فی گیلن تخمینہ لگایا تھا تاہم موجودہ قیمت 4.51 ڈالر تک پہنچ جانے سے تمام تخمینے غلط ثابت ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی کے بند ہونے سے تقریباً 15 ہزار ملازمین اور کنٹریکٹرز متاثر ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی ہزاروں مسافر مختلف ایئرپورٹس پر پھنس گئے، جن کی مدد کے لیے دیگر بڑی ایئرلائنز میدان میں آ گئی ہیں۔
یونائیٹڈ ایئرلائنز، ڈیلٹا ایئر لائنز، جیٹ بلیو اور ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز نے اسپرٹ کے متاثرہ مسافروں کے لیے ٹکٹ کی قیمتوں میں کمی اور خصوصی سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کچھ ایئرلائنز نے ’اسپرٹ‘ کے عملے کو مفت سفر کی سہولت بھی فراہم کرنا شروع کردی ہے تاکہ وہ اپنے گھروں تک پہنچ سکیں۔
ماہرین کے مطابق اسپرٹ ایئرلائنز کی بندش امریکا کی ایوی ایشن انڈسٹری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے کیونکہ گزشتہ دو دہائیوں میں اس حجم کی کوئی ایئرلائن بند نہیں ہوئی۔ یہ کمپنی کم قیمت ٹکٹ فراہم کر کے مارکیٹ میں مقابلے کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی تھی۔
اسپرٹ ایئرلائنز پہلے ہی 2019 کے بعد سے مسلسل خسارے کا شکار تھی اور اسے گزشتہ سال دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے جیٹ بلیو کے ساتھ مجوزہ انضمام بھی ناکام ہو گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ایئرلائن کی بندش سے اس کے حریف اداروں کو فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ واقعہ عالمی معیشت اور جنگی حالات کے اثرات کو واضح کرتا ہے۔
اُدھر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تاحال متاثر ہے، جس سے عالمی سطح پر ایندھن کی سپلائی متاثر اور قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ اس صورتِ حال نے دنیا بھر کی ایئرلائنز کے اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے۔