ایران جنگ کا ڈراپ سین: تہران کا جُھکنے سے انکار – World



040911335fa41f6 ایران جنگ کا ڈراپ سین: تہران کا جُھکنے سے انکار - World

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کو کمزور کرنا تھا، تاہم تازہ سفارتی پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین ایک ایسے عبوری معاہدے کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کے تحت ایران شدید نقصان اٹھانے کے باوجود مکمل طور پر ٹوٹنے سے بچ جائے گا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات سے آگاہ ایک ذرائع نے بتایا ہے کہ ممکنہ معاہدے کے خدوخال سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جن کے تحت ایران اقتصادی طور پر بری طرح متاثر اور اس کا فوجی و صنعتی ڈھانچہ شدید نقصان کا شکار ہوگا، تاہم ایران کی پاسدارن انقلاب کا اثر و رسوخ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو سکتا ہے۔

سفارت کاروں، حکام اور علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ کے خاتمے کے لیے جلد کوئی یادداشتِ مفاہمت طے پا بھی جاتی ہے تو اس کے مستقل امن معاہدہ بننے کے امکانات کم ہیں اور یہ زیادہ تر ایک عارضی جنگ بندی ثابت ہو سکتی ہے۔

ممکنہ سمجھوتے کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، عالمی مالیاتی منڈیوں اور ایران پر موجود اقتصادی دباؤ میں کمی لانا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سیاسی طور پر ایک قابلِ قبول راستہ فراہم کرنا ہے، جبکہ زیادہ پیچیدہ اور متنازع مسائل کو بعد کے مرحلے کے لیے مؤخر کر دیا جائے گا۔

سابق امریکی سفارت کار ڈینس راس نے کہا کہ غیر معمولی عسکری کامیابیاں ضرور حاصل ہوئی ہیں لیکن کوئی بنیادی تزویراتی کامیابی نہیں ملی اور کوئی بھی مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوا۔

28 فروری کو ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ کارروائی کا مقصد ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں سے پیدا ہونے والے فوری خطرات کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام سے اپنے ملک کا کنٹرول سنبھالنے کی اپیل بھی کی تھی۔

زیرِ غور معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز پر اپنی مؤثر رکاوٹ ختم کرے گا، جبکہ اس کے بدلے میں منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی یا پابندیوں میں محدود نرمی کے ذریعے مالی ریلیف حاصل کرے گا۔

ایرانی حکام اس محدود معاہدے کو وقت حاصل کرنے، مالی سہولتیں حاصل کرنے اور گرتی معیشت کے باعث پیدا ہونے والے اندرونی خطرات کو قابو میں رکھنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ وہ زیادہ متنازع امور کو اس مرحلے پر زیرِ بحث لانے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جسے وہ ایران کے جوہری پروگرام، خاص طور پر ایٹم بم بنانے کے لیے استعمال ہونے والے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے حوالے سے اپنی کامیابی قرار دے سکیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جنگ کے بنیادی محرکات بڑی حد تک برقرار رہیں گے۔ ایران یورینیم افزودگی ترک کرنے پر آمادہ نہیں، واشنگٹن ایران کو سکیورٹی ضمانتیں دینے کے لیے تیار نہیں جبکہ اسرائیل ایران کو بدستور اپنے وجود کے لیے خطرہ تصور کرتا ہے۔

ایران کا خیال ہے کہ مستقبل کے حملوں کو روکنے کے لیے اس کے پاس میزائل ذخیرہ، علاقائی اتحادیوں کا نیٹ ورک اور خلیجی توانائی کی ترسیل میں خلل ڈالنے کی صلاحیت برقرار رہنا ضروری ہے۔

سابق امریکی سفارت کار اور ایران کے ماہر ایلن آئر کے مطابق ٹرمپ کو سیاسی طور پر جو چیز درکار ہے اور ایران جو دینے پر تیار ہے، ان دونوں میں مشترک نکات بہت محدود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکمت عملی یہ ہے کہ فوری طور پر ایک معاہدہ کیا جائے اور تمام مشکل مسائل کو دوسرے مرحلے کے لیے چھوڑ دیا جائے، جس کے ہونے کے امکانات کم ہیں۔

مذاکرات سے واقف دو ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کو غالباً ایک مختصر مدتی جنگ بندی، انتہائی افزودہ یورینیم کے بارے میں مبہم الفاظ پر مشتمل عہد اور آبنائے ہرمز پر ایران کے عملی کنٹرول کی صورت میں نتیجہ مل سکتا ہے۔

علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی، لیکن عملی طور پر اس کا کنٹرول ایران ہی کے پاس رہے گا، چاہے گزرنے کی فیس کا نظام کسی بھی شکل میں طے کیا جائے۔ر

رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے اسرائیل اور خلیجی ممالک کے تحفظات کے باوجود ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو ختم کرانے پر اپنی توجہ بڑی حد تک کم کر دی ہے۔

معاہدے کی راہ میں موجود رکاوٹوں میں ایران کا یہ مطالبہ شامل ہے کہ کسی بھی سمجھوتے کو اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ پر حملے روکنے سے منسلک کیا جائے، جبکہ ٹرمپ جوہری معاملے پر سیاسی تاثر کو اپنے حق میں رکھنا چاہتے ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے عوامی سطح پر اس تعلق کی تردید کی ہے، لیکن عملی طور پر انہوں نے لبنان اور آبنائے ہرمز کے معاملات کو ایک دوسرے سے جوڑ لیا ہے۔

اسی وجہ سے انہوں نے اسرائیل پر بیروت اور اس کے جنوبی مضافات پر حملے روکنے کے لیے دباؤ ڈالا تاکہ وہاں کشیدگی میں اضافہ آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدے کی کوششوں کو متاثر نہ کرے۔

رپورٹ کے مطابق ایران تقریباً 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی فوری واپسی کو کسی بھی معاہدے کا بنیادی حصہ سمجھتا ہے اور اس کے بغیر آگے بڑھنے کا امکان کم ہے۔

واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نئیر ایسٹ پالیسی کے ڈیوڈ شینکر کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ 2015 میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے سے کسی بھی قسم کے موازنے سے بچنا چاہتے ہیں، تاہم ایران کے منجمد فنڈز کی رہائی ایسے ہی الزامات کو جنم دے سکتی ہے۔ ان کے بقول اس سے بچنے کا کوئی آسان راستہ موجود نہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جنگ میں عارضی وقفہ آتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ ایرانی انقلابی گارڈز کو ہو سکتا ہے۔ ڈیوڈ شینکر کے مطابق پہلے وہ اقتدار کے پسِ پردہ طاقت تھے، اب وہ خود طاقت بن چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عبوری معاہدہ اسرائیل کے لیے بھی مکمل اطمینان کا باعث نہیں ہوگا کیونکہ ایرانی قیادت جنگ کو نظریاتی بنیادوں پر دیکھتی ہے اور اس نے اشارہ دیا ہے کہ کوئی بھی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان بنیادی تنازع ختم نہیں کر سکتا۔

سابق امریکی سفارت کار ڈینس راس کے مطابق اسرائیل اور ایران کے لیے جنگ کا یہ باب شاید ختم ہو جائے، لیکن اصل تنازع ختم نہیں ہوسکتا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *