ایران کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ شکست تسلیم کر لے: صدر ٹرمپ – World



0521453588bb6a3 ایران کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ شکست تسلیم کر لے: صدر ٹرمپ - World

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو اب انا چھوڑ کر ’سفید جھنڈا‘ (شکست کا نشان) لہرا دینا چاہیے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران عوامی سطح پر سخت بیانات کے باوجود پسِ پردہ امریکا کے ساتھ نیا معاہدہ کرنے کا شدید خواہش مند ہے کیونکہ اس کی عسکری قوت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی فوج کی کارروائیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ان کی فوج اب محض ’کھلونے‘ چلانے تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکام محض دکھاوے کے لیے کھیل کھیل رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ڈیل کرنا چاہتے ہیں اور جب کسی کی فوج مکمل طور پر ختم ہو جائے تو وہ ڈیل کیوں نہیں کرنا چاہے گا؟۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس نہ نیوی بچی ہے اور نہ ائیرفورس، ان کا سب کچھ ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ بات مجھ سے گفتگو کے دوران بھی ایرانی تسلیم کرچکے ہیں لیکن جب میں اخبار پڑھتا ہوں تو وہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ وہ بڑا اچھا کام کررہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی پر امریکی فوج کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے اسے ’فولادی دیوار‘ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی اس ناکہ بندی کو چیلنج کرنے کی ہمت نہیں کرے گا اور یہ حکمت عملی انتہائی کامیابی سے کام کر رہی ہے۔

جب صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ ان کی نظر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کا معیار کیا ہوگا، تو انہوں نے ایک بار پھر مبہم انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ کو پتا چل جائے گا، کیونکہ میں خود آپ کو بتاؤں گا۔ وہ (ایرانی) اچھی طرح جانتے ہیں کہ انہیں کن اقدامات سے گریز کرنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر یہ کوئی باقاعدہ لڑائی ہوتی تو وہ اسے اب تک ختم کر چکے ہوتے، اس لیے ایران کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ہتھیار ڈال کر شکست تسلیم کر لے۔

واضح رہے کہ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں امریکا اور ایران کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی اطلاعات رپورٹ ہورہی ہیں۔ یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ اس اہم آبی گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی بحفاظت منتقلی کے لیے ان کی رہنمائی کرے گی۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *