امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے تاہم اس درخواست پر آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد ہی اس پر غور کیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’سوشل ٹروتھ‘ پر جاری پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے رہنما نے حال ہی میں امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا ایران کے نئے ایرانی رہنما کو سابقہ رہنماؤں کے مقابلے میں ذہین قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی درخواست پر اس وقت غور کیا جائے گا جب آبنائے ہرمز پر آزادانہ آمد ورفت بحال ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس شرط کے پورا نہ ہونے تک ایران پر امریکی حملے جاری رہیں گے اور انہیں پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔
اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران سے جلد نکل جائے گا اور ضرورت پڑنے پر صرف مخصوص اہداف پر حملے کرے گا۔ انہوں نے نیٹو کے بارے میں بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ امریکا کو نیٹو سے نکالنے پر غور کر رہے ہیں۔
ایران جنگ کے اختتام کے حتمی اوقات سے متعلق سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’میں بالکل نہیں بتا سکتا مگر ہم جلد ہی نکل جائیں گے‘۔