ایرانی ڈرون حملوں کے تناظر میں امریکا نے سعودی عرب کے ایک اہم فوجی اڈے پر یوکرین کی تیار کردہ اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی نصب کر دی ہے، جس کا مقصد بڑھتے ہوئے فضائی خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی فوج نے حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پر یوکرینی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ”اسکائی میپ“ نصب کیا ہے۔ یہ نظام دشمن کے ڈرونز کا سراغ لگانے اور ان کے خلاف فوری کارروائی میں مدد فراہم کرتا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یوکرینی فوجی حکام نے اڈے کا دورہ کیا اور امریکی اہلکاروں کو اس جدید نظام کے استعمال کی تربیت دی۔ یہ ٹیکنالوجی یوکرین کی فوج روس کے ساتھ جاری جنگ کے دوران وسیع پیمانے پر استعمال کر رہی ہے، خاص طور پر ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے۔
پرنس سلطان ایئر بیس، جو ایران سے تقریباً 640 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جنگ کے آغاز سے اب تک متعدد ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بن چکا ہے۔ ان حملوں میں امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا اور کم از کم ایک اہلکار ہلاک بھی ہوا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یوکرینی ٹیکنالوجی کا استعمال اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکی فضائی دفاعی نظام میں کچھ کمزوریاں موجود ہیں۔ واشنگٹن میں قائم ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے ماہر ٹموتھی والٹن نے کہا کہ دنیا بھر میں امریکی فضائی دفاعی کوریج میں خلا ایک عرصے سے موجود ہے، تاہم اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جانب سے ڈرون دفاع میں مدد کی پیشکش مسترد کر دی تھی۔
ادھر امریکی محکمہ دفاع نے حال ہی میں ”آپریشن ایپک فیوری“ کے تحت ڈرون خطرات سے نمٹنے کے لیے 350 ملین ڈالر مختص کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس میں جدید سینسرز، کیمرے اور انٹرسیپٹرز شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اڈے پر دیگر جدید دفاعی نظام بھی استعمال ہو رہے ہیں، جن میں امریکی کمپنیوں کے تیار کردہ انٹرسیپٹر ڈرونز شامل ہیں۔تاہم ابتدائی آزمائش کے دوران کچھ تکنیکی مسائل بھی سامنے آئے ہیں، جن میں ایک انٹرسیپٹر ڈرون کا حادثہ بھی شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر دنیا بھر میں جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔