ایران کی جانب سے جمعرات کی صبح کویت، بحرین اور اردن میں مختلف فوجی اڈوں اور اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملے کیے گئے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ان حملوں کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ انہوں نے بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئربیس، اور کویت کے علی الساسم اور احمد الجابر ایئربیسز پر ڈرون حملے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ اردن کے الازرق ایئربیس پر بارہ بیلسٹک میزائل داغے گئے، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو تیل بردار جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران نے ان حملوں کو امریکی فوجی کارروائیوں کا جواب قرار دیا ہے، جن میں امریکہ نے ایرانی جزیرے قیشم اور مختلف بندرگاہوں پر بمباری کی تھی۔ تہران نے سخت وارننگ دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ حملے جاری رہے تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔
ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے حوالے سے کویت کی حکومت نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے دشمن کے فضائی اہداف کو فضا میں ہی مار گرایا۔ کویتی حکام کے مطابق مجموعی طور پر نقصان انتہائی محدود رہا ہے اور کسی قسم کا کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
دوسری طرف بحرین کی وزارتِ داخلہ نے صورتحال کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی ڈرونز کو مار گرانے کے باعث گرنے والے ملبے کی وجہ سے حمد سٹی اور دارالحکومت منامہ میں کچھ گھروں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ ملبہ گرنے سے ایک گیارہ سالہ بچی کو معمولی چوٹ آئی ہے۔
اردن کی فوج نے بھی اس حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ازرق کی جانب داغے گئے بیس ایرانی میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
اردنی فوج کے مطابق میزائلوں کا ملبہ گرنے سے ملک میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے۔ مجموعی طور پر ایران کی طرف سے کیے گئے اس بڑے حملے کو دفاعی نظاموں نے ناکام بنا دیا ہے اور صورتحال قابو میں ہے۔
واضح رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کے اندر دوسرے روز بھی مسلسل فضائی حملے کیے۔ جس کے جواب میں ایران نے خلیجی مملاک پر میزائل اور ڈرون داغے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اپنے دفاع میں کی گئی ہیں جن میں ایران کے فوجی نظام، مواصلاتی نیٹ ورک اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے رات بھر میں دو سے تین لہروں میں ایران کے تقریباً ایک درجن شہروں اور صوبوں کو نشانہ بنایا۔
پہلے حملے میں کیش، سیریک، میناب اور بندر عباس شامل تھے، جبکہ دوسرے مرحلے میں اصفہان اور تہران کے مغرب میں واقع شہر کرج میں دھماکے سنے گئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ امریکی افواج نے ایران میں متعدد اہداف کے خلاف اضافی دفاعی حملے مکمل کر لیے ہیں اور امریکی فورسز خطے میں کسی بھی خطرے کا جواب دینے کے لیے پوری طرح چوکس اور تیار ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک بڑا انکشاف کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے 49 ٹوماہاک میزائل استعمال کیے گئے، جن میں سے کچھ اہداف ایرانی دارالحکومت تہران سے محض 40 میل کی دوری پر تھے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے امریکی مذاکرات کاروں کے معاہدے پر دستخط نہ کیے تو امریکا اگلی رات پھر بمباری کرے گا۔
انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حملوں کے بعد اعلیٰ ایرانی حکام نے ان سے رابطہ کر کے بمباری روکنے کی درخواست کی ہے۔ تاہم، ایران نے اس بات کی تردید کی ہے۔
اس بڑی امریکی کارروائی کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے بھی انتہائی سخت ردعمل دیا ہے۔
ایرانی فوجی کمان نے عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے لیے اہم ترین راستے، آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام جہازوں کو وہاں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان کی فورسز نے بند راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو بحری جہازوں کو نشانہ بھی بنایا ہے۔
اس کے علاوہ ایران نے دو مرحلوں میں جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین اور دیگر خلیجی علاقوں میں موجود امریکی تنصیبات پر حملہ کیا، جس میں امریکی فوج کی میزبانی کرنے والے 18 بیسز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایران کے مطابق کویت میں ال سالم، احمد الجابر اور بحرین میں شیخ عیسیٰ ایئربیس کو نشانہ بنایا گیا اور امریکی ففتھ فلیٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔
اس جنگی صورتحال کے باعث کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایرانی جارحیت کے پیش نظر احتیاطی تدابیر کے طور پر ملک کی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کیا جا رہا ہے اور تمام پروازوں کو متبادل ہوائی اڈوں کی طرف موڑ دیا جائے گا۔