جاپان میں طاقتور زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں، جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.4 ریکارڈ کی گئی ہے جس کی جاپانی میڈیا نے تصدیق کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق زلزلے کا مرکز سطح زمین سے تقریباً 10 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا، جس کے باعث جھٹکوں کی شدت زیادہ محسوس کی گئی اور مختلف علاقوں میں لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
جاپانی حکام اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے کے بعد سونامی کا خطرہ بھی موجود ہے، اور ساحلی علاقوں میں 3 میٹر بلند لہریں اٹھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکام نے ساحلی علاقوں میں رہنے والے افراد کو محتاط رہنے اور ممکنہ انخلا کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جبکہ ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ شہری ساحلی اور دریا کنارے علاقوں سے فوراً محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو جائیں۔
مزید کہا گیا کہ سونامی کی لہروں سے نقصان کا خدشہ موجود ہے اور یہ لہریں بار بار آ سکتی ہیں، اس لیے شہری محفوظ مقام اس وقت تک نہ چھوڑیں جب تک وارننگ ختم نہ کر دی جائے۔
زلزلہ آنے سے تاحال کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی فوری اطلاعات موصول نہیں ہوئیں، تاہم صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
فرانس 24 کے مطابق جاپان کی وزیر اعظم کے دفتر نے بھی صورتحال کے پیش نظر ایک کرائسز مینجمنٹ ٹیم قائم کر دی ہے تاکہ ہنگامی حالات سے نمٹا جا سکے۔
واضح رہے کہ جاپان دنیا کے سب سے زیادہ زلزلہ خیز ممالک میں سے ایک ہے، جو بحرالکاہل کے مغربی کنارے پر موجود چار بڑی ٹیکٹونک پلیٹس کے اوپر واقع ہے اور رِنگ آف فائر کا حصہ ہے۔
تقریباً 12 کروڑ 50 لاکھ آبادی پر مشتمل اس جزیرہ نما ملک میں ہر سال اوسطاً 1500 زلزلے آتے ہیں، جو دنیا کے مجموعی زلزلوں کا تقریباً 18 فیصد بنتے ہیں۔
اگرچہ ان میں سے بیشتر زلزلے معمولی نوعیت کے ہوتے ہیں، تاہم ان کے نقصانات کا انحصار ان کے مقام اور زمین کی سطح کے نیچے گہرائی پر ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ جاپان میں سال 2011 میں 9.0 شدت کے زلزلے نے تباہ کن سونامی کو جنم دیا تھا، جس کے نتیجے میں 18 ہزار 500 افراد ہلاک اور لاپتہ ہوئے تھے۔