حماس کا نیا سربراہ کون ہوگا؟ انتخاب آخری مرحلے میں داخل – World
حماس نے اپنے نئے سربراہ کے انتخاب کے آخری مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جہاں دو اہم رہنما خالد مشعل اور خلیل الحیہ اس عہدے کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔
فلسطینی تنظیم حماس نے اپنے سیاسی بیورو کے نئے سربراہ کے انتخاب کے لیے اندرونی انتخابی عمل مکمل کر لیا ہے اور اب حتمی مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تنظیم کے باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ حماس کے تینوں بڑے علاقائی حلقوں میں انتخابات مکمل ہو چکے ہیں اور اب مرکزی قیادت کے انتخاب کا مرحلہ باقی ہے۔
ذرائع کے مطابق نیا سیاسی بیورو چیف ایک سال کے لیے بطور’غیر معمولی مدت‘ خدمات انجام دے گا۔ اس کے بعد چار سالہ باقاعدہ انتخابی دور کا آغاز کیا جائے گا جس کے ذریعے شوریٰ کونسل اور دیگر قیادتی اداروں کی تجدید کی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق نو منتخب جنرل شوریٰ کونسل کے 80 سے زائد ارکان ووٹنگ کے ذریعے تنظیم کے سربراہ اور سیاسی بیورو کے ارکان کا انتخاب کریں گے۔ یہ عمل تنظیم کے اندرونی ضوابط کے مطابق انجام دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قیادت کے لیے مقابلہ دو اہم شخصیات کے درمیان محدود ہو چکا ہے۔ ان میں خالد مشعل شامل ہیں جو حماس کی بیرونی قیادت کے سربراہ رہ چکے ہیں، جبکہ دوسرے امیدوار خلیل الحیہ ہیں جو غزہ میں تنظیم کی اعلیٰ قیادت کا حصہ اور مذاکراتی وفد کے سربراہ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حتمی اعلان رمضان کے دوران متوقع ہے۔
یہ انتخاب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب تنظیم کی اعلیٰ قیادت کو حالیہ برسوں میں بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سابق سیاسی بیورو چیف اسماعیل ہنیہ جولائی 2024 میں ایک حملے میں مارے گئے تھے، جس کے بعد قیادت یحیح سنوارکو منتقل ہوئی۔ اکتوبر 2024 میں رفح میں جھڑپوں کے دوران ان کی ہلاکت کے بعد حماس نے پانچ رکنی قیادتی کونسل قائم کی جس کی سربراہی شوریٰ کونسل کے سربراہ محمد الدرویش کو دی گئی۔
حالیہ ووٹنگ کو ان واقعات کے بعد تنظیم میں پہلا باقاعدہ قیادتی انتخاب قرار دیا جا رہا ہے۔
خالد مشعل 1956 میں مغربی کنارے کے گاؤں سلواد میں پیدا ہوئے۔ وہ حماس کی سیاسی حکمت عملی اور بیرونی تعلقات میں طویل عرصے سے اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ 1997 میں اردن کے دارالحکومت عمان میں ان پر ایک قاتلانہ حملہ ہوا تھا جس میں اسرائیلی ایجنٹس کی جانب سے زہر دینے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ اس حملے میں بچ گئے تھے۔
خلیل الحیہ نومبر 1960 میں غزہ شہر میں پیدا ہوئے اور تنظیم کے اندر غزہ کی قیادت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ کئی اہم مذاکراتی عمل کا حصہ رہے ہیں، جن میں دوحہ میں ہونے والے جنگ بندی مذاکرات بھی شامل ہیں۔ حالیہ عرصے میں وہ قطر میں مقیم رہے ہیں، جہاں تنظیم کی قیادت بیرونی سرگرمیاں انجام دیتی رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ستمبر 2025 میں دوحہ میں حماس قیادت کے ایک اجلاس کو اسرائیلی فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں کئی افراد ہلاک ہوئے۔ خلیل الحیہ اس حملے میں محفوظ رہے، تاہم ان کے بیٹے اور دفتر کے ایک ڈائریکٹر سمیت متعدد افراد جان سے گئے۔ اس سے قبل بھی ان کے خاندان کے کئی افراد مختلف فضائی حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔
مبصرین کے مطابق موجودہ انتخاب حماس کی قیادت میں تسلسل اور ممکنہ تبدیلی دونوں پہلوؤں کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ تنظیم اپنی اندرونی ساخت کو نئے حالات کے مطابق ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
Post Comment