حکومت نے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے متعلق اتحادیوں کو اعتماد میں لے لیا – Pakistan



06205116c215c89 حکومت نے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے متعلق اتحادیوں کو اعتماد میں لے لیا - Pakistan

حکومت نے اپنے اتحادیوں کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق اعتماد میں لیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ حالات معمول پر آتے ہی یہاں بھی پیٹرولیم نرخوں میں کمی کردی جائے گی۔

حکمران اتحاد کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیر دفاع خواجہ آصف کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، ریاض پیرزادہ، بیرسٹر عقیل ملک، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری سمیت دیگر جماعتوں کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی۔ 

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملکی معاشی صورت حال اور کفایت شعاری کے تحت اٹھائے گئے اقدامات جب کہ وزیر مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے پیٹرولیم مصنوعات کی طلب، رسد اور قیمتوں پر بریفنگ دی۔

علی پرویز ملک نے پارلیمانی پارٹی کوموجودہ صورت حال پربریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے حکومت نے فوری اقدامات اٹھائے۔

وزیرپارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے مطابق اجلاس میں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور دیگر اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جہاں وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم نے موجودہ صورت حال سے آگاہ کیا۔

طارق فضل نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی پالیسیز پر اعتماد کا اظہار کیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالے سے مزید اقدامات پر غور کیا گیا اور وزرا نے اجلاس کو بتایا ہے کہ حالات معمول پر آتے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی جائے گی۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں پیٹرولیم قیمتوں کی نگرانی سے متعلق کابینہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں قیمتوں میں ردوبدل کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی اور مارکیٹ کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سپلائی کے تسلسل کو یقینی بنانے، مارکیٹ ڈسپلن برقرار رکھنے اور سپلائی چین میں نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا گیا۔

کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر سپلائی کی صورت حال مستحکم ہے، ملک میں ڈیزل کے ذخائر تقریباً 25 دن، پیٹرول موجودہ طلب کے مطابق دستیاب جب کہ خام تیل کے ذخائر تقریباً 12 دن کے لیے کافی ہیں۔

اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ توانائی کی مستحکم فراہمی زراعت، کھاد سازی، ٹرانسپورٹ اور صنعت جیسے اہم شعبوں کے لیے ناگزیر ہے۔

کمیٹی نے ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت اور قیاس آرائیوں کو روکنے کے لیے سخت نگرانی جاری رکھنے کی ہدایت کی جب کہ اجلاس میں گیس سپلائی کی صورت حال کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اوگرا کو گیس اور ایل پی جی کے بڑھتے استعمال کے پیش نظر وسائل کے مؤثر استعمال کے لیے ڈیٹا پر مبنی حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا گیا جب کہ وزیر خزانہ نے اوگرا کو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو کےساتھ کوآرڈینیشن بڑھانے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، ایف آئی اے اور پی ایس او کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ ٹیمیں اسلام آباد میں منتخب پٹرول پمپس پر تعینات کی جائیں گی۔

قومی اسمبلی اجلاس میں معمول کی کارروائی معطل کرکے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بحث کا فیصلہ کیا گیا، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایوان کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا حکومت پیٹرولیم بحران سے بچنے کے لیے ٹھوس اقدامات کررہی ہے، خطے کی صورت حال نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، حکومت نے ذمہ داری نبھائی یا نہیں یہ فیصلہ تاریخی کرے گی۔

پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے شروع ہوتے ہی اپوزیشن نے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے پر احتجاج شروع کردیا۔ اجلاس میں معمول کی کارروائی معطل کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بحث کی گئی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ جیسے ہی یہ بحران شروع ہوا وزیر اعظم شہباز شریف نے فوری طور پر اس کا نوٹس لیا اور پیٹرولیم بحران سے بچنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے، وزیراعظم ساری صورت حال کو خود مانیٹر کررہے ہیں، ہم تقریبا پانچ ہفتے سے روانہ اسٹاک ٹیکنگ کر رہے ہیں، وزیرپیٹرولیم حکومتی فیصلوں اور اقدامات سے ایوان کو آگاہ کریں گے، اس معاملے پر بھرپور بحث کرائی جائے گی، خود اس حوالہ سے بحث کو سمیٹوں گا۔

وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایوان کو بتایا کہ 28 فروری کو ایران میں بمباری کے باعث 20 سے 25 فیصد ہرمز سے سپلائی متاثر ہوئی، رکاوٹ کے باعث دنیا میں نرخوں میں اضافہ ہوا، حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا، کفایت شعاری اور اخراجات میں کمی کر کے وفاقی حکومت نے اقدامات اٹھائے، 50,50، 60,60 ارب کے جھٹکے حکومت نے خود برداشت کیے۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ اندرونی بحران سے بچنے اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے، ڈیزل کی قیمت اور دستیابی میں بھی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، ڈیزل کی قیمت 280 ڈالرفی بیرل کو چھو چکی تھی، پاکستان کا ڈیزل منگوانے کے لیے کویت پیٹرولیم کی ساتھ 50 سال کا معاہدہ ہے، وزیراعظم ، فیلڈ مارشل، ڈپٹی وزیراعظم نے بھرپور کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں قلت کے باعث مشکلات اور مہنگائی لقب سامنا کرنا پڑا، پاکستان کو ساری ایل این جی قطر سے آتی ہے، گیس لانے کے متبادل بندوبست کیے گئے، اس پر صدر مملکت نے قومی قیادت کو مدعو کیا، صورتحال سامنے رکھی۔

علی پرویز ملک نے ایوان کو بتایا کہ چند ہفتوں میں ایک سو چالیس ارب کا بندوبست کر کے ریلیف دیا گیا، وزرا کو صوبوں میں بھیجا گیا، سب کو ایک پیج پر لایا گیا، وزیراعظم نے بھی اقدامات قومی قیادت کے سامنے رکھے، آئی ایم ایف پروگرام میں ہونے کی وجہ سے کمزور طبقے کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا گیا، اتفاق رائے سے ٹارگٹڈ سبسڈی کا بندوبست کیا گیا، ڈیجیٹل زرائع سے رقوم کی منتقلی کی جا رہی ہے، ٹرانزیکشن جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا 90 فیصد تیل ہرمز سے آتا ہے، سعودی حکومت نے اپنی پورٹ کے زریعے تیل مہیا کیا، یو اے ای اور اومان حکومتوں کا بھی شکریہ جنہوں نے تیل کی ترسیل کا ماحول فراہم کیا، جنگ بندی میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا، ایرانی حکومت نے بھی تعاون کیا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *