عید کارڈ سے اسٹیٹس تک: کیا ہم نے عید کی مبارکباد کا اصل مزہ کھو دیا؟ – Life & Style



20140343f97b5b9 عید کارڈ سے اسٹیٹس تک: کیا ہم نے عید کی مبارکباد کا اصل مزہ کھو دیا؟ - Life & Style

جین زی کے ڈیجیٹل دور سے پہلے، بومرز اور ملینئیل جنریشن کے لیے عید کی خریداری میں صرف کپڑے اور چپل وغیرہ شامل نہیں ہوتے تھے بلکہ عید مبارک کہنے کے لیے خریداری میں خوبصورت عید کارڈز بھی شامل ہوتے تھے جن پر تمام تر محبت اور جذبوں کے ساتھ دلچسپ اشعار اور عید کے پیغامات بھی ہوا کرتے تھے۔ ڈاکیے کی سائیکل کی گھنٹی عید کے کارڈ یا پیغام کا اعلان ہوتی تھی۔

پھر وقت نے کروٹ لی اور دیکھتے ہی دیکھتے عید منانے کے انداز میں تبدیلی آتی چلی گئی۔ خاص طور پر آج جین زی کے ڈیجیٹل دور کو ماضی کی روایتی عید کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تبدیلی صرف سہولت تک محدود نہیں بلکہ جذبات کے اظہار، میل جول، اور تہذیبی روایات کی تبدیلی تک پھیل چکی ہے۔

ٹیکنالوجی نے جہاں میلوں کے فاصلے سیکنڈوں میں سمیٹ دیے ہیں، وہاں شاید لفظوں سے وہ تاثیر اور لمس چھین لیا ہے جو ہاتھ سے لکھے گئے پیغام میں ہوتا تھا۔

اگر ہم اس دور کی بات کریں تو عید کا ایک بالکل مختلف منظر سامنے آتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عید کی آمد صرف چاند دیکھنے کا نام نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے کئی دنوں، بلکہ کئی دنوں کی تیاری، جوش اور بےقراری شامل ہوا کرتی تھی۔

چاند رات ہمیشہ ہی عجیب جذبات اور کیفیات لیے ہوتی، چھوٹے بچوں اور بچیوں کی خوشی ان کے چہروں سے عیاں ہوتی تھی۔ نئے کپڑے، چوڑیاں، مہندی، اور عیدی ملنے کی خوشی اور لڑکوں کی اپنی تیاری۔ کُرتا یا قمیض شلوار، پشاوری چپل، گھڑی اوردھوپ کا چشمہ، یہ سب بچوں کے لیے عید کا اصل مزہ ہوا کرتے تھے۔

عید کے دن، خاندان کی روایات میں ایک دوسرے کے گھر جانا آنا ہوا کرتا تھا اسی لحاظ سے بچوں کے منصوبے بھی تیار ہوتے۔ بچوں کو سب سے بڑی خوشی رشتے داروں سے عید ملنے اور ان کے گھر جانے کی یا گھر پر کزنز اور مہمانوں کے آنے کی ہوا کرتی تھی۔ آج چچا کے گھر جانا ہے، پھر تایا کے، پھر ماموں اور خالہ کے گھر، اور ساتھ میں دوستوں اور کزنز سے ملاقاتیں۔

اپنے کپڑوں اور چیزوں کو بار بار دیکھنا اور پھر بےصبری سے عید کی صبح کا انتظار بلآخر انہیں رات کے کسی پہر میں نیند کی وادیوں میں لے جاتا۔

عید کی صبح کا آغاز بھی ایک خاص ترتیب کے ساتھ ہوتا تھا۔ گھر کے مرد بچوں کو ساتھ لے کر نمازِ عید کے لیے روانہ ہوتے، جبکہ گھر کی خواتین اور لڑکیاں جلدی جلدی اپنی تیاری اور پکوانوں میں مصروف ہو جاتیں۔

عید کی نماز کے بعد لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے، اور عید کی مبارکباد دیتے۔ گھر واپس آتے تو الگ ہی خوشیوں اور رونق کا سماں ہوتا۔ بزرگوں کو سلام اور آداب، دعائیں لینا، اور بچوں کو عیدی دینا خوبصورت روایت کا حصہ تھا۔

Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *