فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کر کے زور دیا ہے کہ اسلام آباد میں جاری مذاکرات کے موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے۔ انہوں نے خطے میں دیرپا امن کے لیے لبنان میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی کی بحالی کو بھی ناگزیر قرار دیا۔
فرانسیسی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ان کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔
بیان کے مطابق انہوں نے ایرانی ہم منصب پر زور دیا کہ اسلام آباد مذاکرات کی صورت میں ملنے والے اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے تاکہ خطے میں کشیدگی میں مستقل کمی کی راہ ہموار کی جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے کی سیکیورٹی کے لیے ایک ایسا ٹھوس اور جامع معاہدہ ضروری ہے جس میں تمام متعلقہ ممالک شامل ہوں۔ میکرون نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور سیکیورٹی بحال کرے اور کہا کہ فرانس اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
فرانسیسی صدر نے لبنان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے جنگ بندی کے مکمل احترام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے لبنانی حکومت کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’فرانس لبنانی حکام کے اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ صرف لبنانی حکام ہی ریاست کی خود مختاری کا استعمال کرنے اور لبنان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے قانونی اور آئینی حق دار ہیں۔‘
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود اعلیٰ سطح وفد ایران کے مفادات کا محافظ ہے اور وہ اسی جذبے کے تحت مذاکرات میں شریک ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پیغام میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے نتائج کچھ بھی ہوں، ایران کی ریاست عوام کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
واضح رہے کہ ایرانی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے امریکا اور ایران کے درمیان اہم ترین مذاکرات جاری ہیں اور پاکستان کی کوششوں سے دونوں ملک ایک دہائی بعد پہلی بار براہِ راست آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔
‘اسلام آباد مذاکرات‘ کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔