لبنان کے جنوب، مشرق اور بیروت میں اسرائیل کی بمباری، ہلاکتیں 50 سے زائد ہو گئیں – World



021826509c58128 لبنان کے جنوب، مشرق اور بیروت میں اسرائیل کی بمباری، ہلاکتیں 50 سے زائد ہو گئیں - World

لبنان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں میں کم از کم 52 افراد ہلاک اور 154 زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل وزارت صحت کی رپورٹ میں 31 ہلاکتیں اور 149 زخمی بتائے گئے تھے۔

حکومت کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ یونٹ کے مطابق حملے لبنان کے جنوبی اور مشرقی علاقوں کے علاوہ بیروت کے جنوبی مضافات پر بھی کیے گئے، جس کے نتیجے میں 28,500 سے زائد افراد بے گھر ہو گئے۔

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے لبنان بھر میں حزب اللہ سے منسلک اہداف پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ فوج نے ٹیلیگرام پر جاری ایک بیان میں کہا کہ مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔

عینی شاہدین کے مطابق لبنانی دارالحکومت بیروت میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شہر کے مختلف حصوں سے دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں نے کئی علاقوں کو متاثر کیا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملوں کا ہدف حزب اللہ کے ٹھکانے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی جاری کشیدگی میں پیر کے روز ایک نیا محاذ اس وقت کھلا جب حزب اللہ نے ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت کے ردعمل میں اسرائیل کی جانب میزائل اور ڈرون داغے۔ یہ حملے اسرائیل کے شمالی علاقوں کی طرف کیے گئے، جس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں وسیع فضائی کارروائیاں شروع کر دیں۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کو نشانہ بنایا جہاں حزب اللہ کا اثر و رسوخ ہے اور کئی اہم جنگجوؤں کو ہدف بنایا گیا۔

لبنان کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملوں میں کم از کم 52 افراد ہلاک اور 154 زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل وزارت صحت کی رپورٹ میں 31 ہلاکتیں اور 149 زخمی بتائے گئے تھے۔

اسرائیل نے حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کو ”نیا ہدف“ قرار دیا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ فی الحال لبنان میں زمینی کارروائی پر غور نہیں کیا جا رہا۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بیروت میں رات گئے حملے میں حزب اللہ کے انٹیلی جنس ہیڈکوارٹر کے سربراہ حسین مقلد کو ہلاک کیا، تاہم اس بارے میں حزب اللہ کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے 18 قصبوں اور دیہات کے رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ بھی جاری کی ہے۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ ان علاقوں کو حزب اللہ عسکری مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

جن علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں دیر الزہرانی، السلطانیہ، طول، حابوش، ساحلی شہر صور، دیر قنون النہر اور بقاع وادی کا قصبہ مشغرا شامل ہیں۔ انخلا کے احکامات کے بعد کئی خاندان محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ کی عسکری سرگرمیاں غیر قانونی ہیں اور گروپ کو اپنے ہتھیار ریاستی اداروں کے حوالے کرنے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ لبنان کی سرزمین سے ریاستی فریم ورک سے باہر کسی بھی فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

لبنانی وزیراعظم نے 2024 میں اسرائیل کے ساتھ طے پانے والی جنگ بندی پر عملدرآمد اور مذاکرات کی بحالی کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *