دنیا بھر میں کل 10 مئی بروز اتوار ماؤں کا عالمی دن ایک بار پھر بھرپور محبت اور عقیدت کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ یہ دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ اس عظیم ہستی کے نام ہے جو اپنی پوری زندگی اولاد کی راحت کے لیے وقف کر دیتی ہے۔ اس سال بھی پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں مئی کا دوسرا اتوار اسی جذبے کے تحت منایا جائے گا۔
یہ دن صرف ماؤں کے لیے نہیں بلکہ ان عظیم ہستیوں کے لیے بھی ہے جو خاندان اور معاشرے کی تعمیر میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ چاہے وہ سگی ماں ہو، دادی ہوں، نانی ہوں یا کوئی بھی ایسی شخصیت جو ماں کی طرح پرورش کرتی ہو، یہ دن ان سب کے نام ہے۔
ماؤں کے عالمی دن کی تاریخ کافی قدیم ہے جس کے تانے بانے قدیم یونان اور روم سے ملتے ہیں جہاں دیویوں کے اعزاز میں تہوار منعقد کیے جاتے تھے۔ تاہم موجودہ دور میں اس دن کو باقاعدہ شکل دینے کا سہرا امریکہ کی سماجی کارکن اینا جاروس کے سر جاتا ہے۔
اینا جاروس نے 1908 میں اپنی والدہ کی سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے پہلا سرکاری پروگرام منعقد کیا تھا۔ بعد ازاں یہ روایت طے پائی کہ ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو ماؤں کا دن منایا جائے گا کیونکہ اسی دن اینا کی والدہ کا انتقال ہوا تھا۔
تاہم ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ بعد میں وہ خود ہی اس کے خلاف ہو گئی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ لوگ اس دن کو صرف کارڈز، پھولوں اور مہنگے تحائف تک محدود کر کے اسے ایک کاروباری موقع بنا رہے ہیں، جبکہ وہ چاہتی تھیں کہ اسے ایک جذبے اور ایثار کے طور پر سادہ انداز میں منایا جائے۔
دنیا کے مختلف حصوں میں یہ دن مختلف تاریخوں اور انداز میں منایا جاتا ہے۔ جہاں پاکستان، بھارت اور امریکہ میں مئی کا دوسرا اتوار مخصوص ہے، وہیں برطانیہ میں اسے مدرنگ سنڈے کے نام سے پکارا جاتا ہے جو کہ مارچ کے مہینے میں آتا ہے۔
عرب ممالک میں 21 مارچ کو موسمِ بہار کی آمد پر یہ دن منایا جاتا ہے، جو نئی زندگی اور شادابی کی علامت ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں ماؤں کا دن الگ الگ انداز سے منایا جاتا ہے، لیکن محبت اور احترام کا پیغام ہر جگہ یکساں رہتا ہے۔ جاپان میں سرخ گل کارنیشن تحفے کے طور پر دی جاتی ہیں، آسٹریلیا میں خاندان اکثر کرسموم کے پھول اور دل سے دیے گئے تحائف دیتے ہیں۔
اٹلی میں ماؤں کو روزمرہ کے کاموں سے وقفہ دیا جاتا ہے اور ان کے لیے آرام اور خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ میکسیکو میں یہ دن 10 مئی کو موسیقی، دعوتوں اور روایتی گانے “لاس مانانیٹاس” کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
ایتھوپیا میں بارش کے موسم کے بعد کثیر روزہ تہوار کے طور پر گانے، رقص اور روایتی دعوتوں کے ساتھ اس دن کو منایا جاتا ہے۔
دنیا بھر میں اس دن سب سے زیادہ تحفہ دیے جانے والی چیز پھول ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سال بھر میں جتنے پھول خریدے جاتے ہیں، ان کا ایک بڑا حصہ صرف ماؤں کے عالمی دن پر فروخت ہوتا ہے۔
سفید رنگ کا کارنیشن پھول ان ماؤں کی یاد میں لگایا جاتا ہے جو وفات پا چکی ہوں، جبکہ سرخ یا گلابی پھول حیات ماؤں کی محبت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ایک عالمی رپورٹ کے مطابق، سال کے کسی بھی دوسرے دن کے مقابلے میں ماؤں کے عالمی دن پر سب سے زیادہ فون کالز کی جاتی ہیں۔ لوگ دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں، اس دن اپنی ماں سے بات کرنا اور انہیں مبارکباد دینا ضروری سمجھتے ہیں۔
مشرقی اور اسلامی معاشرے میں اگرچہ ماں کا احترام کسی ایک دن کا محتاج نہیں، قرآن و حدیث میں ماں کے قدموں تلے جنت اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کی جو تاکید کی گئی ہے، اس کی وجہ سے یہاں ہر دن ہی ماں کے احترام کا دن سمجھا جاتا ہے، لیکن عالمی سطح پر اس دن کا منایا جانا نئی نسل کو اس پاکیزہ رشتے کی اہمیت یاد دلانے کا ایک بہترین موقع بن گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دن کا اصل مقصد ان تمام ماؤں، دادیوں، نانیوں اور سرپرست خواتین کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہے جو خاموشی سے خاندان کی خوشیوں کے لیے اپنی قربانیاں دیتی ہیں۔
اس اتوار کو آپ بھی اپنی ماں کے ساتھ وقت گزار کر یا ان کی پسند کا کوئی کام کر کے انہیں یہ احساس دلا سکتے ہیں کہ وہ آپ کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔