امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد اہم ترین مذاکرات پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہفتے کے روز شیڈول ہیں۔ ایران نے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور اپنے منجمد اثاثوں کی بحالی کو لازمی قرار دیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ فریقین کے درمیان باہمی طور پر طے پانے والے دو نکات پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان نکات میں سے ایک لبنان میں جنگ بندی اور دوسرا ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’مذاکرات شروع ہونے سے قبل ان دونوں شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے۔‘
باقر قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں انتہائی اہم اور تاریخی مذاکرات منعقد ہونے جا رہے ہیں، جس کے نتائج مشرق وسطیٰ اور پورے خطے کے مستقبل کے لیے فیصلہ کُن ثابت ہو سکتے ہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کچھ دیر قبل واشنگٹن سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں جب کہ ان کے ہمراہ مذاکراتی ٹیم میں ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف شامل ہوں گے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا نام سامنے آیا ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کے دوران ایران میں زیرِ حراست امریکیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق فی الحال یہ واضح نہیں کہ امریکی وفد اس معاملے میں ایران پر کتنا دباؤ ڈالے گا، کیونکہ اگر مذاکرات میں پیچیدگیاں پیدا ہوئیں تو حالات کو دیکھتے ہوئے اس مطالبے کو مؤخر بھی کیا جاسکتا ہے۔