معاشقہ، پِیر اور لالچ: لاہور میں تین بچوں کا ہولناک قتل، گرفتار ماں کے باپ پر سنگین الزامات – Crime



25135617df063f8 معاشقہ، پِیر اور لالچ: لاہور میں تین بچوں کا ہولناک قتل، گرفتار ماں کے باپ پر سنگین الزامات - Crime

لاہور کے علاقے اچھرہ میں تین معصوم بچوں کے لرزہ خیز قتل کے کیس میں ایک نیا اور اہم موڑ سامنے آیا ہے جہاں گرفتار ملزمہ ردا، جو کہ بچوں کی سگی ماں ہے، اس نے پولیس تفتیش کے دوران اپنے شوہر پر انتہائی سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے اپنے تینوں جگر گوشوں کو بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارنے کا اعتراف تو پہلے ہی کر لیا تھا لیکن اب اس نے اس انتہائی قدم کے پیچھے چھپے گھریلو حالات سے پردہ اٹھایا ہے۔

ملزمہ ردا نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کا شوہر اسے زبردستی غیر مردوں سے فون پر بات کرنے اور ان سے پیسے مانگنے پر مجبور کرتا تھا جو اسے کسی صورت پسند نہیں تھا۔

ملزمہ نے انکشاف کیا کہ اس کے شوہر کو شہریار نامی شخص سے اس کے رابطے کا بھی علم تھا اور شوہر کے کہنے پر ہی انہوں نے ایک پیر سے بھی رابطہ کیا تھا۔

ردا کا کہنا تھا کہ وہ اپنے شوہر کے اس غیر اخلاقی رویے اور روزانہ کے جھگڑوں کی وجہ سے اس کے ساتھ مزید نہیں رہنا چاہتی تھی لیکن طلاق کی صورت میں اسے اپنے بچوں کا مستقبل تاریک نظر آ رہا تھا۔

ملزمہ کے بقول جب اس نے اپنے بچوں کی ذمہ داری اٹھانے کے حوالے سے میکے والوں سے بات کی تو انہوں نے صاف انکار کر دیا جس کے بعد اسے لگا کہ طلاق کے بعد ان بچوں کو سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوگا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزمہ ردا اور شہریار کے درمیان ہونے والی 746 فون کالز کا ریکارڈ مل گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ملزمہ نے بچوں سے کھیلتے ہوئے انہیں باری باری قتل کیا اور تہرے قتل کے بعد کپڑے تبدیل کیے۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ ہولناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملزمہ نے اپنے پانچ سالہ، چار سالہ اور ڈیڑھ سالہ بچوں کے گلے کاٹ کر انہیں ابدی نیند سلا دیا اور پھر جرم چھپانے کے لیے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت میڈیکل اسٹور جانے کے بہانے گھر سے نکل گئی۔

واپسی پر اس نے شور مچا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے کسی نامعلوم شخص نے یہ کارروائی کی ہے اور ابتدائی طور پر اس قتل کا الزام اپنی ساس پر دھرنے کی بھی کوشش کی۔

تاہم پولیس نے جب جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو ملزمہ کے بیانات میں تضاد کھل کر سامنے آگیا۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے گھریلو جھگڑوں اور بچوں کے مستقبل کے حوالے سے پیدا ہونے والے ذہنی دباؤ کو اس سفاکانہ فعل کی وجہ قرار دیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمہ سے ابھی مزید تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اس کیس سے جڑے دیگر تمام حقائق اور شوہر کے کردار کی حقیقت کو بھی سامنے لایا جا سکے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسا اندھا قتل تھا جسے ملزمہ نے بڑی چالاکی سے چھپانے کی کوشش کی تھی لیکن سائنسی بنیادوں پر کی گئی تفتیش نے آخر کار اصل حقیقت بے نقاب کر دی ہے۔

اب اس کیس میں ملزمہ کے شوہر کے خلاف الزامات کی روشنی میں تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کیے جانے کا امکان ہے۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *