سابق امریکی وزیر دفاع اور سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر لیون پینیٹا نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ تین ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد صدر ٹرمپ آگے چٹان اور پیچھے کھائی والی صورت حال میں پھنس چکے ہیں۔ دوسری طرف ایران کے خلاف فوجی آپریشن پر ٹرمپ کو کڑی تنقید کا سامنا ہے، ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ امریکی صدر ایران کے خلاف جنگ کا کنٹرول کھوچکے ہیں اور وہ گھبراہٹ کا شکار ہیں۔
اتوار کو برطانوی جریدے کو دیے گئے انٹرویو میں لیون پنیٹا نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورت حال پر سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ بحران ان کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور وہ اس وقت مشکل صورت حال میں پھنس چکے ہیں۔
لیون پینیٹا نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے تین ہفتوں بعد ڈونلڈ ٹرمپ ایک پیچیدہ صورت حال کا سامنا کر رہے ہیں اور دنیا کو کمزوری کا پیغام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صلاحیت سے امریکی حکام ہمیشہ آگاہ رہے تاہم موجودہ صورت حال میں یہی خدشہ حقیقت بن چکا ہے۔
ان کے مطابق جنگ کا آغاز 28 فروری کو اسرائیل کے ایک اچانک حملے سے ہوا، جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے، آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کے قتل کا نتیجہ ٹھیک نہیں رہا اور وقت گزرنے کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کی برتری کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس جنگ میں 13 امریکی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ ایرانی حکام کے مطابق 1400 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے، جنہیں زیادہ سخت گیر رہنما قرار دیا جا رہا ہے۔
سابق امریکی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کر دیا ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ شدید متاثر ہوئی ہے کیوں کہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
لیون پینیٹا کا کہنا تھا کہ یہ صورت حال ٹرمپ کی اپنی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور اگر وہ جنگ شروع کرتے وقت ممکنہ نتائج کا اندازہ لگاتے تو شاید اس بحران سے بچا جا سکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے پاس اب کوئی واضح حکمت عملی موجود نہیں اور جنگ بندی کے بغیر وہ کامیابی کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے سامنے دو ہی راستے ہیں، یا تو وہ جنگ کو مزید وسعت دے کر آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی کوشش کریں یا پھر پیچھے ہٹ کر کامیابی کا اعلان کریں تاہم دونوں صورتوں میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، نیشنل سیکیورٹی حکام کو ایران کی ہرمز بند کرنے کی صلاحیت کا خوب علم تھا، اب فوجی قوت سے ہرمز کھولنے کے سوا کوئی آپشن نہیں، یہ جانی و مالی لحاظ سے بہت مہنگا آپشن ہے، ورنہ ٹرمپ کی ناکامی یقینی ہے۔
لیون پینیٹا نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا، جس کے باعث اب انہیں عالمی حمایت حاصل کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ ان کے مطابق اتحادیوں کے بغیر کسی بھی فوجی کارروائی کو کامیابی سے ہمکنار کرنا مشکل ہوتا ہے۔
سابق امریکی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ موجودہ صورت حال میں امریکا کو ممکنہ طور پر فوجی کارروائی کے ذریعے آبنائے ہرمز کھولنا پڑے گی، بصورت دیگر یہ بحران طویل ہو سکتا ہے اور عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ کی فارن ریلیشنز کمیٹی کے رکن اور ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی آپریشن پر ہدف تنقید بنالیا ہے۔
ایک بیان میں کرس مرفی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کا کنٹرول کھوچکے ہیں، وہ گھبراہٹ کا شکار ہیں۔
امریکی سینیٹر اس سے قبل ایران کے خلاف فوجی آپریشن کو ٹرمپ کی احمقانہ جنگ کہہ چکے ہیں، جس کی وجہ سے پوری امریکی معیشت سکڑنا شروع ہوگئی ہے۔