امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ سے ایک اور استعفیٰ سامنے آگیا، امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گبارڈ نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے مستعفی ہونے کی وجہ اپنے شوہر کو انتہائی نایاب قسم کے ہڈیوں کے کینسر کی تشخیص قرار دیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق 45 سالہ تلسی گبارڈ نے جمعے کے روز اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اپنے استعفے سے آگاہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تلسی گبارڈ کا استعفیٰ 30 جون 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
فوکس نیوز کو موصول ہونے والے استعفے کے خط میں تلسی گبارڈ نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران آفس آف دی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس کی قیادت کا موقع ملنے پر شکر گزار ہیں۔
انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ حال ہی میں ان کے شوہر ابراہام میں ہڈیوں کے ایک نہایت نایاب کینسر کی تشخیص ہوئی ہے اور آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں انہیں شدید طبی مشکلات کا سامنا ہوگا۔
تلسی گبارڈ نے مزید کہا کہ اس صورت حال میں وہ عوامی عہدے سے الگ ہو کر اپنے شوہر کے ساتھ رہنا اور ان کی مکمل معاونت کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے اپنے شوہر کو اپنی زندگی کا مضبوط سہارا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابراہام نے ان کے فوجی مشن، سیاسی مہمات اور حکومتی ذمہ داریوں کے دوران ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔
استعفے کے خط میں تلسی گبارڈ نے کہا کہ انہوں نے انٹیلی جنس کمیونٹی میں شفافیت اور اصلاحات کے لیے اہم پیش رفت کی تاہم ابھی مزید کام باقی ہے۔ انہوں نے انتظامی منتقلی کو مؤثر اور ہموار بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ تاحال وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق تلسی گبارڈ نے اپنے دور میں انٹیلی جنس اداروں میں مختلف اصلاحات کیں، جن میں ادارے کے حجم میں کمی، سرکاری اخراجات میں بچت، متعدد دستاویزات کو ڈی کلاسیفائی کرنا اور مختلف تحقیقاتی ریکارڈز منظرعام پر لانا شامل ہے۔
فوکس نیوز کے مطابق انہوں نے ویپنائزیشن ورکنگ گروپ بھی قائم کیا تھا جب کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ذریعے ہزاروں مشتبہ افراد کو امریکا میں داخل ہونے سے روکنے کے اقدامات بھی کیے.