پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
پاکستان کے سرکاری ٹی ’پی ٹی وی‘ نے ایران اور امریکا کے درمیان پہلی بار براہِ راست مذاکرات کے آغاز کی تصدیق کی ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے بعد دونوں ملک ایک دہائی بعد مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (آئی آر این اے) نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات کی تصیق کی ہے۔
ان انتہائی اہم مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جب کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔
ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں جاری براہِ راست مذاکرات کا عمل اب ’ایکسپرٹ فیز‘ میں داخل ہو چکا ہے، اور ایرانی وفد کی تکنیکی کمیٹیوں کے متعدد ارکان بھی مذاکرات کے مقام پر موجود ہیں۔
اس سے قبل مذاکرات کی نوعیت کے بارے میں ابہام پایا جارہا تھا کہ انتہائی حساس نوعیت کے یہ مذاکرات براہِ راست ہوں گے، بالواسطہ ہوں گے یا دونوں طریقے اختیار کیے جائیں گے۔
اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں سب سے اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے بیشتر مذاکرات ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ انداز میں ہوتے رہے ہیں، تاہم گزشتہ برس جوہری مذاکرات کے دوران کچھ مواقع پر براہِ راست رابطے بھی دیکھنے میں آئے تھے۔
اس سے قبل سابق 2015 میں امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ایران کے جوہری پروگرام پر ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا جب ان دونوں ممالک کے نمائندے براہِ راست آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ تاہم اس معاہدے کو 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر ختم کر دیا اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں۔
اس معاہدے کے خاتمے کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر پابندی عائد کر دی تھی، جس سے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست سفارتی تعلقات محدود ہوگئے تھے۔
2020 میں عراق میں موجود ایران کی قدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان ثالث ممالک کے توسط سے مذاکرات کی کوششیں جاری رہیں لیکن فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے۔
اسلام آباد مذاکرات سے قبل عمان کی ثالثی میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے۔ جس کا پہلا دور اپریل 2025 میں مسقط میں ہوا، جس میں امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف جب کہ ایران کی جانب سے عباس عراقچی شریک ہوئے۔
فروری 2026 کے وسط میں بھی عمان کی ثالثی میں جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے جہاں فریقین نے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی اصولوں پر کسی حد تک اتفاق کیا۔ تاہم 28 فروری کو جنیوا مذاکرات کی ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کردیا۔
پاکستان کی سفارتی کوششوں سے پہلے فریقین جنگ بندی پر آمادہ ہوئے اور اب 11 سال بعد دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا انعقاد ممکن ہوا ہے اور فریقین ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔