پاکستان کی کوششیں تیز، امریکا ایران مذاکرات اب بھی غیر یقینی کا شکار – World



22112232ab0747e پاکستان کی کوششیں تیز، امریکا ایران مذاکرات اب بھی غیر یقینی کا شکار - World

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی اور اسرائیل سے جنگ کے خاتمے کیلئے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، جبکہ پاکستان بھی پس پردہ رابطوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ایک اور اہم ملاقات کی، جس میں جنگ کے خاتمے اور اختلافات کم کرنے کیلئے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کا سلسلہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت براہِ راست مذاکرات کے بجائے پیغامات اور مجوزہ مسودوں کا تبادلہ کیا جا رہا ہے تاکہ کسی ممکنہ معاہدے کیلئے باضابطہ فریم ورک تیار کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وزیر داخلہ سید محسن نقوی گزشتہ چند روز سے تہران میں موجود ہیں اور ایرانی قیادت کے ساتھ مسلسل ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ایک اور اہم ملاقات کی، جس میں امریکا۔ایران اختلافات کم کرنے اور جنگ بندی کیلئے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق محسن نقوی مذاکراتی عمل میں رابطہ کار کا کردار ادا کر رہے ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے اور دونوں ممالک کے درمیان قابل قبول حل نکالا جا سکے۔ اس سے قبل وہ ایرانی قیادت تک امریکا کا تازہ پیغام بھی پہنچا چکے ہیں۔

ایک ایرانی عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ مذاکرات کار کسی ممکنہ معاہدے کے ’’بہت قریب‘‘ پہنچ چکے ہیں اور ڈرافٹ معاہدے پر کام جاری ہے، تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکراتی ماحول اب بھی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ کبھی یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ معاملات حل ہونے کے قریب ہیں، جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق اب بھی کئی بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’کچھ مثبت اشارے‘‘ سامنے آئے ہیں، تاہم وہ زیادہ پرامید نہیں ہونا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس یا سخت کنٹرول نافذ کرتا ہے تو کسی معاہدے تک پہنچنا مشکل ہو جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ پہلے مرحلے میں ہر محاذ پر مکمل جنگ بندی کی ضمانت دی جائے، جبکہ امریکا جنگ کے خاتمے کو مرحلہ وار عمل سے مشروط کر رہا ہے اور اسے مذاکراتی پیش رفت سے جوڑ رہا ہے۔

اختلافات کا ایک اہم نکتہ آبنائے ہرمز بھی ہے، جہاں ایران اپنی خودمختاری مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا اور خطے کے کئی ممالک اس مؤقف کی مخالفت کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی توانائی کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ایران نے اپنے منجمد اثاثوں کی مکمل بحالی کا مطالبہ بھی کیا ہے، جبکہ امریکا ان اثاثوں کا ایک حصہ اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے۔

واشنگٹن نے ایران پر زور دیا ہے کہ تہران میں موجود ایک مرکز کے علاوہ تمام جوہری تنصیبات بند کی جائیں اور ایران مکمل طور پر زیرو یورینیم افزودگی کی یقین دہانی کرائے۔ امریکا نے 400 کلوگرام سے زائد افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، تاہم ایرانی حکام اس مطالبے کو مسترد کر چکے ہیں۔

ادھر جنگ اور غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی معیشت بھی دباؤ کا شکار ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جبکہ امریکی ڈالر بھی چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گیا ہے۔ سرمایہ کار اب بھی کسی بڑے بریک تھرو کے حوالے سے محتاط دکھائی دے رہے ہیں۔

دوسری جانب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تہران آمد متوقع تھی، تاہم وہ ابھی تک ایران نہیں پہنچے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ آرمی چیف اس وقت ہی تہران جائیں گے جب مذاکرات میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے آئے گی۔ اگر یہ دورہ ہوتا ہے تو یہ ان کا ایران کا دوسرا اہم دورہ ہوگا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *