ایران نے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی اور اسلام آباد مذاکرات کے بعد پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ پاکستانی ثالثی کے ذریعے رابطے برقرار ہیں اور مکمل جنگ بندی کے لیے مزید بات چیت متوقع ہے۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے بعد سے دونوں فریقین کے درمیان پیغامات کا تبادلہ مسلسل جاری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ اتوار سے رابطوں کا یہ سلسلہ برقرار ہے اور ایران کو پاکستانی ثالثوں کے ذریعے پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کا مؤقف اس معاملے پر واضح ہے اور اسے بارہا دہرایا جا چکا ہے۔
اسماعیل بقائی نے الزام عائد کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے نام پر عالمی سطح پر دہشت گردی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پیغامات کے تبادلے کے دوران یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستان کا ایک وفد جلد ایران کا دورہ کر سکتا ہے تاکہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں سفارتی کوششیں جاری رہیں گی۔