پنکی کے انکشافات سے طاقتور حلقوں کی نیندیں حرام، شوبز اسٹارز سے سیاست دانوں تک کے نام شامل – Crime



16081701168f0a5 پنکی کے انکشافات سے طاقتور حلقوں کی نیندیں حرام، شوبز اسٹارز سے سیاست دانوں تک کے نام شامل - Crime

کراچی کے پوش علاقوں سے لے کر ملک بھر میں کوکین سپلائی کرنے والی بدنام زمانہ ملزمہ انمول عرف پنکی کا جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد اسے آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ دوران تفتیش ملزمہ نے ایسے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں جنہوں نے طاقتور حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔

پنکی کے اعترافی بیانات میں شوبز اسٹارز سے لے کر ایوانوں میں بیٹھے سیاست دانوں تک کے نام منشیات کے خریداروں کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

ملزمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے اہلکاروں کو ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے جبکہ درخشاں، گزری اور بوٹ بیسن تھانوں کے اہلکاروں کو بھی لاکھوں روپے رشوت دی۔

اس کے علاوہ ایک پولیس اہلکار کو راستے سے ہٹانے کے لیے اجرتی قاتل کی خدمات لینے پر بھی غور کیا گیا، اور منشیات چھپانے کے لیے وکلاء کے دفاتر اور چیمبرز کا استعمال کیا جاتا رہا۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملزمہ کے نیٹ ورک کے تانے بانے ملک بھر اور بیرون ملک تک پھیلے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملزمہ سے ڈیڑھ کلو کوکین، نائن ایم ایم پستول اور کوکین تیار کرنے والا کیمیکل برآمد ہوا ہے۔

آزاد خان کے مطابق ملزمہ 2014 سے اس دھندے سے وابستہ ہے اور 2018 میں کراچی میں آن لائن نیٹ ورک کے ذریعے سرگرم ہوئی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تفتیش کے دوران اس کے موبائل فون سے 869 نمبرز ملے ہیں اور ایک بینک اکاؤنٹ میں تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں۔

آزاد خان کے مطابق ملزمہ کے نو رائیڈرز میں سے آٹھ کا تعلق پنجاب سے ہے، اور پولیس نے نیٹ ورک سے جڑے چار اہم ناموں کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔

ملزمہ کے انکشافات کے بعد پنجاب پولیس بھی متحرک ہو گئی ہے اور لاہور پولیس نے کراچی پولیس سے رابطہ کر کے پنجاب کے ڈرگ ڈیلرز کی فہرستیں اور ریکارڈ مانگ لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق انمول پنکی کو 2024 میں لاہور میں نارکوٹکس یونٹ نے گرفتار کیا تھا اور سی آئی اے کوتوالی میں حراست کے دوران بعض پولیس افسران کے ساتھ اس کے مالی معاملات کے الزامات بھی سامنے آئے تھے۔

ملزمہ لاہور کے فارم ہاؤسز پر پارٹیاں منعقد کرتی تھی، تاہم وہاں کریک ڈاؤن کے بعد اس نے اپنی سرگرمیاں کراچی منتقل کر دی تھیں۔

اس معاملے پر سندھ اسمبلی میں بھی شدید بحث ہوئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے مطالبہ کیا کہ پنکی کیس کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور اس پورے ریکٹ کے پیچھے موجود گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا جائے۔

علی خورشیدی کا کہنا تھا کہ منشیات کی وجہ سے خاندان تباہ ہو رہے ہیں اور اگر علاقے میں منشیات فروخت ہو رہی ہو تو متعلقہ ایس ایچ او اس سے لاعلم نہیں ہو سکتا۔

دوسری طرف وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنکی نیٹ ورک میں ہمارے کچھ ہیروز اور اداکار شامل ہیں، لیکن اس معاملے کو سیاسی ایشو نہ بنایا جائے کیونکہ منشیات کا مسئلہ پوری دنیا کا ہے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے بھی واضح کیا کہ عدالت میں پنکی کو پروٹوکول دینے والے اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیا گیا ہے اور جیسے ہی تمام حقائق سامنے آئیں گے، اس نیٹ ورک میں شامل تمام بڑے ناموں کو بے نقاب کر دیا جائے گا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *