کابل فضائی حملہ: سویلین ہلاکتوں کا پروپیگنڈا جھوٹ ہے، اکثر طالبان جنگجو عام لباس پہنتے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر – Pakistan



maxresdefault کابل فضائی حملہ: سویلین ہلاکتوں کا پروپیگنڈا جھوٹ ہے، اکثر طالبان جنگجو عام لباس پہنتے ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر - Pakistan

پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ کابل میں کی جانے والی حالیہ کارروائی میں صرف افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں گولہ بارود، اسلحہ اور ڈرون طیاروں کا ذخیرہ شامل تھا۔

ترجمان پاک فوج نے ایک انٹرویو میں افغانستان اور بھارت کے اس پروپیگنڈے کو مسترد کیا کہ حملوں میں منشیات کے عادی افراد کے اسپتال کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ فضائی حملے کے بعد ہونے والے دھماکے اس بات کا ثبوت تھے کہ وہاں بڑی مقدار میں اسلحہ اور بارودی مواد موجود تھا، جسے پورے شہر میں محسوس کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ کارروائی مخصوص اہداف کے خلاف کی گئی تھی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے سویلین ہلاکتوں کے حوالے سے سامنے آنے والے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پراپیگنڈہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کے بہت سے جنگجو عام شہریوں جیسے کپڑے پہنتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرون افغان طالبان کو بھارت کی جانب سے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی افغان عوام سے کوئی دشمنی نہیں ہے بلکہ انہیں تو خود دہشتگردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی حدود میں اب تک 81 حملے کیے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ان مخصوص اہداف کے خلاف کی گئی ہیں جہاں سے دہشت گرد پاکستان میں داخل ہو کر پولیس، عام شہریوں اور مساجد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان حملوں میں کابل کے قریب واقع ملٹری کیمپوں اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے تاکہ دہشت گردوں کی صلاحیت کو ختم کیا جا سکے۔

ترجمان پاک فوج نے دوٹوک الفاظ میں بتایا کہ دہشت گرد تنظیموں کی تمام بڑی قیادت اس وقت افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہے، جن میں خارجی نور ولی، بشیر زیب اور گل بہادر جیسے نام شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جنگ پاکستان پر دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں نے مسلط کی ہے اور اس تمام تخریب کاری کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ یہ دہشت گرد گروہ بھارتی فنڈنگ پر چل رہے ہیں اور سرحد پار سے آ کر پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حالیہ واقعات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ترلائی کی مسجد میں ہونے والے دھماکے میں نمازی اور معصوم بچے شہید ہوئے، جس کا حملہ آور افغانستان سے آیا تھا۔ اسی طرح وانا کیڈٹ کالج پر حملے کے دوران جو پانچ دہشت گرد مارے گئے وہ تمام کے تمام افغان شہری تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ میں ہمارے ہزاروں بچے شہید ہو چکے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کو افغان عوام سے کوئی مسئلہ نہیں ہے کیونکہ وہ خود بھی اپنی موجودہ حکومت کے ظلم کا شکار اور مظلوم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ پوری قوت سے جاری رکھے گا۔



Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *